
پمز سانحہ: وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی آج حتمی رپورٹ پیش کرے گی
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر پمز اسپتال میں پیش آنے والے سانحے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی آج اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی نے گزشتہ روز اسپتال کی نرسری کا سی سی ٹی وی ریکارڈ تحویل میں لینے کے علاوہ پمز کے متعلقہ عملے کے بیانات بھی قلمبند کیے۔ کمیٹی نے فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹس کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
دوسری جانب کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسپتال میں فائر سیفٹی کے انتظامات یقینی بنانے کے لیے پمز انتظامیہ کو دوبارہ خط ارسال کر دیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر دی گئی ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ انکوائری کمیٹی کے علاوہ پمز اسپتال کی انتظامیہ نے بھی واقعے کی تحقیقات کے لیے اپنی الگ انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
ادھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے بھی پمز واقعے کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور دیگر عملے کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔
ڈاکٹر مہیش کمار نے بھی پمز اسپتال کا دورہ کیا اور واقعے سے متعلق بیانات میں تضاد پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز بتایا گیا تھا کہ آگ ایئر کنڈیشنر سے لگی، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ متعلقہ اے سی چل ہی نہیں رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمام نرسوں کو بٹھا کر ایک ہی بیان یاد کروایا گیا ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سانحے کی وجوہات، ذمہ داری کے تعین اور حفاظتی انتظامات میں ممکنہ غفلت سے متعلق مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔