
سندھ طاس معاہدہ علاقائی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے، اسحاق ڈار
واشنگٹن، یورپ ٹوڈے: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک اہم قانونی فریم ورک ہے، جو علاقائی سلامتی اور دونوں ممالک کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے زیر اہتمام سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ ریاستوں کے درمیان پانی کی تقسیم عالمی قوانین کے تحت ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی بینک سندھ طاس معاہدے کا ثالث ہے۔ معاہدے کے تحت دریائے راوی، بیاس اور ستلج کے پانی کو بھارت بغیر کسی پابندی کے استعمال کرسکتا ہے، جبکہ پاکستان کو دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کے استعمال کا حق حاصل ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں سے متعلق امور کے لیے انڈس واٹر کمیشن بھی فعال ہے، جبکہ پانی سے متعلق اختلافات کے حل کے لیے سندھ طاس معاہدے میں باقاعدہ طریقہ کار اور میکنزم موجود ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے جان بوجھ کر سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا، جبکہ پاکستان کے لیے آبی تحفظ اس کی معاشی، غذائی اور قومی سلامتی سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کا حامی ہے اور اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔