
پاکستان، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان سڑک و ریل رابطوں کے فروغ سے تجارتی روابط مزید مستحکم ہوں گے، قاسم محی الدین
باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان میں پاکستان کے سفیر قاسم محی الدین نے کہا ہے کہ سڑک اور ریل کے بہتر رابطوں کے ذریعے پاکستان، آذربائیجان، وسطی ایشیا، جنوبی قفقاز اور یورپی منڈیوں کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
آذربائیجان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آذرتاج‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ بالخصوص شمالی۔جنوبی راہداری کے ذریعے موثر اور بہتر علاقائی رابطہ خطے کے ممالک کے لیے انقلابی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں، جنہیں پہلے سے موجود بنیادی ڈھانچے کی معاونت حاصل ہے، وسطی ایشیا اور جنوبی قفقاز کے ممالک کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے قدرتی دروازوں کے طور پر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
قاسم محی الدین نے یورپ اور ایشیا کو شمالی۔جنوبی اور وسطی راہداریوں کے ذریعے ملانے والے اہم مرکز کے طور پر آذربائیجان کے تزویراتی جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
سفیر نے کہا کہ گوادر آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک سے سامان کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے بھی ایک اہم مرکز بن سکتا ہے، جس سے علاقائی تجارت اور اقتصادی انضمام کو مزید فروغ ملے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی لاجسٹکس کمپنیوں نے مختلف ٹرانسپورٹ روٹس کی افادیت اور عملی امکانات کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ہی فزیبلٹی اسٹڈیز اور آزمائشی آپریشنز کیے ہیں۔
قاسم محی الدین نے امید ظاہر کی کہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کے ساتھ لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کو مزید تقویت ملے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ مقصد صرف ٹرانسپورٹ روابط قائم کرنا نہیں بلکہ ایسے قابلِ اعتماد، تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل اور پائیدار تجارتی راہداریوں کی ترقی ہے جو پاکستان کو آذربائیجان، وسطی ایشیائی ریاستوں اور یورپی منڈیوں سے زیادہ موثر انداز میں منسلک کرسکیں۔
سفیر کے مطابق ایسی راہداریوں کے قیام سے علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور خطے کے ممالک کے درمیان معاشی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔