
روس، ویتنام تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور، صدر تو لام کی کمیونسٹ پارٹی آف روس کے چیئرمین سے ملاقات
ماسکو، یورپ ٹوڈے: کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام (CPV) کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور ویتنام کے صدر تو لام نے روس کے سرکاری دورے کے دوران ماسکو میں کمیونسٹ پارٹی آف دی رشین فیڈریشن (KPRF) کے چیئرمین گینیڈی زیوگانوف سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران صدر تو لام نے کہا کہ ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی، حکومت اور عوام سابق سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی، حکومت اور عوام سمیت موجودہ روس کی جانب سے ویتنام کی قومی آزادی، اتحاد، تعمیرِ نو اور دفاع کی جدوجہد میں فراہم کی جانے والی گراں قدر معاونت کو ہمیشہ قدر و احترام سے یاد رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا روس کا موجودہ دورہ ویتنام اور روس کے درمیان دیرینہ دوستی اور تزویراتی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ دورہ سابق نسلوں کی کامیابیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید جامع، گہرے اور مؤثر انداز میں فروغ دینے کے لیے ایک نئے باب کا آغاز بھی ہے۔
صدر تو لام نے گزشتہ برسوں کے دوران روس کی نمایاں کامیابیوں پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کا سہرا صدر ولادیمیر پیوٹن کی قیادت، روسی عوام اور مختلف سیاسی قوتوں کے اتحاد، اور قومی پالیسی سازی میں کمیونسٹ پارٹی آف دی رشین فیڈریشن کے کردار کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ KPRF ایک طویل تاریخ اور مستحکم ساکھ رکھنے والی بااثر سیاسی قوت ہے، جو روس کی ترقی کو آگے بڑھانے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پالیسی سازی میں مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔
ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کی 14ویں قومی کانگریس کے بعد ملک کے ترقیاتی ایجنڈے کا حوالہ دیتے ہوئے صدر تو لام نے کہا کہ پارٹی نے قومی ترقی کے فروغ کے لیے متعدد اہم قراردادیں منظور کی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ KPRF اور روس کی دیگر سیاسی جماعتیں CPV کے ساتھ تعاون اور قریبی روابط جاری رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان پارٹی اور ریاستی سطح کے تعلقات کو مزید بامعنی اور مؤثر سطح تک لے جانے میں کردار ادا کریں گی۔
تیزی سے بدلتے اور غیر یقینی بین الاقوامی ماحول کے تناظر میں صدر تو لام نے قومی ترقی کے اہداف کے حصول، امن، سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے باہمی یکجہتی، تعاون اور حمایت مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
دونوں جماعتوں کے درمیان دوطرفہ اور کثیرالجہتی سطح پر تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے صدر تو لام نے بین الجماعتی تعلقات کو وسعت دینے اور گہرا کرنے سے متعلق معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کی تجویز دی۔ انہوں نے اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں میں اضافے اور دونوں جماعتوں کی اہم سرگرمیوں سے متعلق معلومات کے بروقت تبادلے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے گینیڈی زیوگانوف کو مناسب وقت پر KPRF کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے ویتنام کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔
صدر تو لام نے دونوں جماعتوں کے تزویراتی مشاورتی اداروں کے درمیان تجربات کے مسلسل تبادلے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویتنام 2030 تک کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام کے میوزیم کی تکمیل کے لیے کام کر رہا ہے، جو پارٹی کے قیام کی صد سالہ تکمیل کا سال بھی ہوگا۔
انہوں نے روس سے ویتنام اور صدر ہو چی منہ سے متعلق تاریخی دستاویزات اور محفوظ شدہ مواد تک رسائی میں مزید تعاون کی اپیل کی۔ ان میں ویتنام کے بین الاقوامی کمیونسٹ تحریک سے تعلقات، مزاحمتی جنگوں اور سوشلسٹ تعمیر کے دوران سوویت یونین اور دیگر سوشلسٹ ممالک کی معاونت، اور 1991 کے بعد ویتنام۔روس تعاون کی ترقی سے متعلق تاریخی مواد شامل ہیں۔
صدر تو لام نے دونوں جماعتوں کی عوامی تنظیموں، بالخصوص نوجوانوں کی تنظیموں کے درمیان تعاون بڑھانے کی تجویز بھی دی، تاکہ نوجوان نسل دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کی روایات کو آگے بڑھا سکے اور ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کی سیاسی و نظریاتی تربیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ CPV اور KPRF کے درمیان قریبی تعلقات دونوں ممالک کی ترقی، بین الاقوامی کمیونسٹ اور مزدور تحریک کے اندر تعاون، اور علاقائی و عالمی سطح پر امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ میں مسلسل کردار ادا کرتے رہیں گے۔
اس موقع پر گینیڈی زیوگانوف نے ویتنام کو اس کی سماجی و اقتصادی کامیابیوں پر مبارکباد دی اور سائنس و ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ذریعے ملک کے ترقیاتی ماڈل کو جدید بنانے کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام اور جنرل سیکریٹری و صدر تو لام کی قیادت میں ویتنام مزید ترقی اور کامیابیاں حاصل کرتا رہے گا۔
زیوگانوف نے دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات میں ہونے والی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے موجودہ بین الجماعتی معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد کے لیے مزید کوششوں پر زور دیا، تاکہ ویتنام اور روس کے درمیان روایتی دوستی اور تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
KPRF کے چیئرمین نے دونوں جماعتوں کی نوجوانوں کی تنظیموں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کے لیے مسلسل حمایت کا بھی یقین دلایا، تاکہ نوجوان نسل دونوں ممالک کے درمیان روایتی تعلقات کو محفوظ رکھنے اور انہیں مزید فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔