
تاجکستان کی آزادی کی 35ویں سالگرہ، صدر امام علی رحمان کا قومی تعمیر و ترقی کے عزم کا اعادہ
دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کے صدر اور قوم کے رہنما امام علی رحمان نے ملک کی ریاستی آزادی کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر دارالحکومت دوشنبہ کے نیشنل تھیٹر میں منعقدہ پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تاجک عوام، بیرون ملک مقیم تاجک شہریوں اور تاجک زبان بولنے والی برادریوں کو مبارکباد پیش کی۔
صدر رحمان نے آزادی کو آزادی و خودمختاری کی اعلیٰ ترین علامت، تاجک قوم کے وجود کا واضح اظہار اور جدید تاجک ریاست کی بنیادی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے 35 برس اس امر کا ثبوت ہیں کہ تاجک قوم، جو ایک قدیم ثقافت اور تہذیب کی علمبردار ہے، تاریخی دانش، مضبوط عزم اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔
انہوں نے تاجکستان کی آزادی کے ابتدائی برسوں کو ملک کی جدید تاریخ کا انتہائی مشکل اور ہنگامہ خیز دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں مسلط کی گئی خانہ جنگی نے ملک کو گہرے سیاسی اور اقتصادی بحران میں دھکیل دیا تھا، جبکہ ریاست کے انہدام اور قومی تقسیم کا خطرہ ایک سنگین حقیقت بن چکا تھا۔
صدر رحمان نے 1992 میں خجند میں منعقد ہونے والے سپریم کونسل کے 16ویں اجلاس کو ملک کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس اجلاس سے نئی قومی ریاست کی تعمیر کا آغاز ہوا اور وہاں منظور کیے گئے فیصلوں اور دستاویزات نے تاجک ریاست کی بحالی اور ترقی کے لیے قانونی و سیاسی بنیادیں فراہم کیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مشکل دور میں تاجکستان کے لیے عالمی برادری میں اپنا جائز مقام حاصل کرنے کی خاطر امن اور استحکام ناگزیر تھا۔ قومی دانش اور عوام کی براہِ راست حمایت پر انحصار کرتے ہوئے ملک نے اپنی تاریخ کے شدید چیلنجز پر قابو پایا اور ماضی و مستقبل کے حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔
صدر رحمان نے خانہ جنگی کے خاتمے، مہاجرین کی واپسی اور قومی اتحاد کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور تاجک امن کے تجربے کو امن سازی کی ایک منفرد مثال قرار دیا جسے عالمی برادری نے تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاجکستان کی سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی کامیابیاں اور پائیدار ترقی ریاستی آزادی اور سپریم کونسل کے 16ویں اجلاس سے جڑے تاریخی فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔
صدر رحمان کے مطابق مذکورہ اجلاس میں قومی پرچم کو تاجک ریاست کا پہلا اہم ریاستی نشان تسلیم کیا گیا، جس کے بعد دیگر ریاستی علامات اور بالخصوص تاجکستان کے آئین کی تیاری اور منظوری کے لیے بنیاد فراہم ہوئی۔
انہوں نے آئینی نظام کی بحالی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قیام، ملک کے فوجی ڈھانچے کی تشکیل اور قانون کی بالادستی کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔
صدر نے کہا کہ ریاست کی قانونی اور آئینی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ انتہائی مشکل حالات میں تاجکستان نے مسلح افواج، سرحدی دستوں، دیگر فوجی ڈھانچوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تقریباً صفر سے تشکیل دیا۔
ان کے مطابق ان اقدامات نے قومی آزادی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ، قومی سلامتی کے قیام اور سیاسی استحکام برقرار رکھنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد بنیاد فراہم کی۔
صدر رحمان نے غربت میں کمی اور قومی معیشت کے استحکام کے لیے ریاستی پروگراموں اور قومی حکمت عملیوں کے نفاذ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاجکستان نے مارکیٹ پر مبنی اقتصادی نظام کی جانب منتقلی اور مسابقتی معیشت کی ترقی کو اقتصادی نمو اور ریاستی آزادی کے استحکام کے لیے اہم شرائط قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ توانائی میں خودکفالت کا حصول، ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی تنہائی کا خاتمہ، غذائی تحفظ یقینی بنانا اور صنعتی ترقی کو تیز کرنا تاجکستان کے اہم قومی اسٹریٹجک اہداف میں شامل رہے ہیں۔
صدر رحمان نے محب وطن کاروباری شخصیات اور مخیر حضرات کی ملکی ترقی میں خدمات کو سراہتے ہوئے شہریوں، کاروباری برادری اور فلاحی شخصیات کا تاجکستان کی تعمیر و ترقی میں کردار پر شکریہ ادا کیا۔
تاجکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے ملک کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے تاجکستان کی کوششوں سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی 20 قراردادوں کو عالمی مسائل کے حل میں ملک کے کردار کے بین الاقوامی اعتراف کی اہم مثال قرار دیا۔
صدر رحمان نے بالخصوص اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے 2027 سے 2036 کو ’’آئندہ نسلوں کے لیے امن کے استحکام کی دہائی‘‘ قرار دینے والی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ تاجکستان کی امن سازی، قومی اتحاد اور عالمی امن کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا مزید اعتراف ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزادی کے برسوں کے دوران تاجکستان بھر میں دسیوں ہزار سماجی اور صنعتی مراکز اور تنصیبات تعمیر کی گئیں، جن سے عوام کی متعدد ضروریات پوری کرنے اور معیارِ زندگی کو بتدریج بہتر بنانے میں مدد ملی۔
صدر رحمان نے ملک کی ان کامیابیوں اور ترقی کو آزادی و خودمختاری، امن و استحکام، قومی اتحاد اور تاجک عوام کی مسلسل محنت کا نتیجہ قرار دیا۔
تقریب کے اختتام پر قوم کے رہنما نے تاجک عوام کی حب الوطنی، استقامت، محنت اور قومی تعمیر کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ریاست سازی کے مشکل دور میں ان کے ساتھ کام کرنے والے ارکان پارلیمنٹ، حکومتی عہدیداروں، کمیٹیوں اور اداروں کے سربراہان اور دیگر ریاستی اداروں کے نمائندوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
صدر کے خطاب کے بعد ریاستی آزادی کی 35ویں سالگرہ کی مناسبت سے ایک شاندار ثقافتی پروگرام بھی پیش کیا گیا۔
پروگرام میں تاجکستان، وطن، دوشنبہ، آزادی، دوستی اور آزادی کے دور کی دیگر کامیابیوں کو اجاگر کرنے والی موسیقی اور فنونِ لطیفہ کی پیشکشیں شامل تھیں۔
فنکاروں نے معروف تاجک شعراء کے کلام پر مبنی تخلیقات پیش کیں، جنہیں نامور موسیقاروں کی دھنوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔ پروگرام میں عالمی اوپیرا کے معروف فن پارے، جن میں جارج بیزے کے شہرہ آفاق اوپیرا ’’کارمن‘‘ کے اقتباسات بھی شامل تھے، معروف فنکاروں نے پیش کیے۔
لولا، گلریز، زیبو، جہان آرا، پرستو، جلوہ، بزم آرا اور چمن سمیت مختلف رقص گروپس کے فنکاروں کے علاوہ صدرالدین عینی اسٹیٹ اکیڈمک اوپیرا اینڈ بیلے تھیٹر کے بیلے گروپ نے بھی اپنی پرفارمنس سے جشن کی تقریب کو چار چاند لگا دیے۔