
روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہیں: کریملن
ماسکو، یورپ ٹوڈے: روس نے روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان براہِ راست سہ فریقی مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے یوکرین تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کیے جانے کے تناظر میں ماسکو مذاکرات کی بحالی کا خواہاں ہے۔
منگل کو نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی رابطے تیزی سے جاری ہیں، جبکہ امریکی مذاکرات کار ماسکو اور کیف کے درمیان پیغامات پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روس کو امید ہے کہ تینوں فریقوں کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے اور بالآخر تنازع کا پرامن حل تلاش کیا جائے گا۔
کریملن کے ترجمان نے واشنگٹن اور نئی دہلی کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ روس کبھی نہیں چاہتا تھا کہ یوکرین تنازع شروع ہو۔ انہوں نے ماسکو کے اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ روس نے اپنی فوجی کارروائی کا آغاز اس مقصد کے ساتھ کیا تھا کہ اس تنازع کا خاتمہ کیا جائے، جو روس کے مطابق 2014 میں میدان کے واقعات کے بعد شروع ہوا تھا۔
پیسکوف نے کیف کی جانب سے جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کی آمادگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یوکرین کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے مطلوبہ لچک یا حقیقی آمادگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے مؤقف پر بعض یورپی ممالک کا خاصا اثر ہے، جو ان کے بقول روس کو اسٹریٹجک شکست دینے کے مقصد کو بدستور آگے بڑھا رہے ہیں۔
ان کے یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی حالیہ سفارتی کوششوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔ دونوں امریکی عہدیداروں نے ہفتے کے روز ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے تین گھنٹے سے زائد ملاقات کی، جس کے بعد اگلے روز کیف روانہ ہوئے جہاں انہوں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے مذاکرات کیے۔
کریملن نے ماسکو میں ہونے والی ملاقات کو تعمیری اور انتہائی واضح قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی نمائندوں نے تنازع کے خاتمے کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں، جبکہ صدر پیوٹن نے دیرپا تصفیے کے حوالے سے روس کی شرائط کا اعادہ کیا۔
بعد ازاں اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ ایک اور سہ فریقی اجلاس کے انعقاد کی جانب پیش رفت ہوئی ہے اور امید ظاہر کی کہ سفارتی کوششیں بالآخر کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے منگل کو کہا کہ اگلے سہ فریقی مذاکرات متحدہ عرب امارات، ترکیہ، سوئٹزرلینڈ یا کسی دوسرے ملک میں منعقد کیے جاسکتے ہیں اور یہ اجلاس ستمبر یا اکتوبر میں بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم، ماسکو اور واشنگٹن نے تاحال مذاکرات کے لیے کسی حتمی مقام یا تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔
سہ فریقی مذاکرات کا آخری دور فروری میں جنیوا میں ہوا تھا، جبکہ اس سے قبل ابوظہبی میں مذاکرات کے دو ادوار منعقد کیے گئے تھے۔ اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آیا، تاہم واشنگٹن نے ان بات چیت کو ’’اہم پیش رفت‘‘ قرار دیا تھا۔
بعد ازاں امریکا کی توجہ ایران کے ساتھ اپنے تنازع کی جانب منتقل ہونے کے باعث مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا، جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان لڑائی جاری رہی۔
ماسکو متعدد مرتبہ واضح کرچکا ہے کہ وہ سفارتی رابطوں کے لیے تیار ہے، تاہم اس کا مؤقف ہے کہ جامع تصفیے میں تنازع کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب کیف نے علاقائی اور سلامتی سے متعلق روسی مطالبات کو مسترد کرنا جاری رکھا ہے، جس کے باعث دونوں فریقوں کے درمیان اہم اختلافات تاحال برقرار ہیں۔