مراکش

مغربی صحارا: 40 ممالک کی مراکش کی خودمختاری اور خود اختیاری منصوبے کی حمایت

Read Time:3 Minute, 20 Second

رباط، یورپ ٹوڈے: مغربی صحارا کے معاملے پر مراکش کو ایک بار پھر اہم بین الاقوامی سفارتی حمایت حاصل ہوئی ہے، جہاں 40 ممالک نے مغربی صحارا کے جنوبی صوبوں پر مراکش کی ’’مکمل اور غیر مشروط خودمختاری‘‘ کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے تنازع کے حل کے لیے مراکشی خود اختیاری منصوبے (Autonomy Plan) کو بنیاد قرار دیا ہے۔

یہ مشترکہ موقف جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62ویں اجلاس کے دوران اقوام متحدہ میں مراکش کے مستقل نمائندے عمر زنیبر نے پیش کیا۔

مشترکہ اعلامیے میں 40 ممالک نے مغربی صحارا کے مسئلے کو ایک سیاسی تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ ممالک نے مراکش کی خودمختاری کے تحت حقیقی خود اختیاری کو تنازع کے قابل عمل حل کے طور پر حمایت دی۔

ان ممالک نے اکتوبر 2025 میں منظور کی گئی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2797 کا بھی خیرمقدم کیا، جس میں فریقین سے مراکش کی خود اختیاری تجویز کی بنیاد پر مذاکرات کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ منصفانہ، دیرپا اور باہمی طور پر قابل قبول سیاسی حل حاصل کیا جا سکے۔

اعلامیے میں مراکش کی جانب سے اپنے خود اختیاری منصوبے کو مزید جامع اور تفصیلی بنانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا، جبکہ تیندوف کیمپوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی مساوی شہری حقوق کی بنیاد پر واپسی اور معاشرے میں انضمام کے لیے مراکش کے عزم کو بھی سراہا گیا۔

40 ممالک نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام کے ساتھ مراکش کے تعاون کا بھی خیرمقدم کیا، جس میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر اور انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے ساتھ تعاون شامل ہے۔

اعلامیے میں جنوبی مراکش کے شہروں العیون اور الداخلة میں غیر ملکی قونصل خانوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو بھی اجاگر کیا گیا۔ ممالک کے مطابق یہ سفارتی موجودگی خطے میں اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور ترقی کے فروغ میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔

ممالک نے اس امر پر زور دیا کہ مغربی صحارا تنازع کا حل علاقائی انضمام کو فروغ دینے اور افریقہ اور عرب دنیا میں وسیع تر ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے گا۔

یہ تازہ پیش رفت مراکش کی جانب سے اپنے خود اختیاری منصوبے کے لیے بڑھتی ہوئی عالمی حمایت کے دعوے کے درمیان سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب 130 سے زائد ممالک اس اقدام کی حمایت کر چکے ہیں۔

متعدد یورپی ممالک نے بھی مراکش کے مؤقف کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ فرانس نے مراکشی خود اختیاری منصوبے کو مذاکراتی حل کی بنیاد قرار دیا ہے، جبکہ برطانیہ نے اسے دیرپا حل کے حصول کے لیے قابلِ اعتبار، قابلِ عمل اور عملی بنیاد قرار دیا ہے۔

ڈنمارک نے بھی حال ہی میں مراکش کے اقدام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسے باہمی طور پر متفقہ تصفیے کی بنیاد قرار دیا، جبکہ پرتگال نے بھی منصوبے کی حمایت کی ہے۔ اسپین بھی مغربی صحارا کے معاملے پر مراکش کے مؤقف کی حمایت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

مراکش نے جنوبی صوبوں میں اپنی سفارتی سرگرمیاں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں، جہاں العیون اور الداخلة میں 30 سے زائد غیر ملکی قونصل خانے کام کر رہے ہیں۔

تازہ سفارتی پیش رفت سے مغربی صحارا کے معاملے پر رباط کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے، بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2797 کی منظوری کے بعد، جس میں اقوام متحدہ کی زیر قیادت مذاکرات کے لیے مراکش کے خود اختیاری منصوبے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

مراکش کے مؤقف کو ملنے والی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی حمایت نے الجزائر اور پولساریو فرنٹ پر بھی سفارتی دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جو مغربی صحارا کی آزادی کے مؤقف کی وکالت کرتے رہے ہیں۔

حالیہ پیش رفت اس وسیع تر سفارتی رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں اقوام متحدہ کے زیر قیادت عمل کے تحت مغربی صحارا کے تنازع کے حل کے لیے خود اختیاری پر مبنی سیاسی فریم ورک کو زیادہ اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کی ’اپنا گھر اسکیم‘ کے تحت کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت
ویتنام Next post روس، ویتنام کا جامع اسٹریٹجک تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق