
دانش یونیورسٹی ٹیکنالوجی میں خطے کا مرکزِ امتیاز بنے گی، وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں زیر تعمیر دانش یونیورسٹی اپنی اعلیٰ معیار کی تعلیمی، تحقیقی اور تکنیکی سہولیات کے باعث ٹیکنالوجی کے شعبے میں خطے کے ایک نمایاں مرکزِ امتیاز کے طور پر ابھرے گی، جبکہ یونیورسٹی ستمبر 2027 تک فعال ہونے کے لیے تیار ہوگی۔
وزیراعظم نے دانش یونیورسٹی کے قیام سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستحق اور باصلاحیت نوجوانوں کو معیاری، جدید اور میرٹ پر مبنی تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ دانش یونیورسٹی باصلاحیت نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرے گی اور داخلوں کے لیے ملک بھر میں سختی سے میرٹ پالیسی پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
اجلاس کو منصوبے پر بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ یونیورسٹی کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ فیکلٹی کے انتخاب کا عمل جاری ہے اور اب تک 185 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ دانش یونیورسٹی کے ورچوئل اسکول کے لیے ایف ایس سی اور اے لیولز کے دوسرے سال کے طلبہ کی تلاشِ صلاحیت کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ منتخب طلبہ کے لیے پانچ ماہ پر مشتمل 100 فیصد مفت کلاسز کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ داخلہ ٹیسٹ 24 اکتوبر 2026 کو ملک کے 40 سے زائد شہروں میں منعقد ہوگا۔
شرکاء کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی کی کیمپس عمارت اگلے سال مکمل کر لی جائے گی، جبکہ طلبہ کے لیے تیاری پر مبنی برج پروگرام 10 اگست سے 14 ستمبر 2027 تک جاری رہے گا۔ یونیورسٹی کا باقاعدہ تعلیمی سیشن 20 ستمبر 2027 سے شروع ہوگا۔
ابتدائی مرحلے میں دانش یونیورسٹی میں بائیو انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی علوم کے شعبہ جات متعارف کرائے جائیں گے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، خالد مقبول صدیقی اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، رکن قومی اسمبلی اسامہ سرور، دانش یونیورسٹی بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین عارف سعید اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔