افغان

افغان سرزمین سے ڈرون دراندازی کی شدید مذمت، پاکستان کا حقِ دفاع استعمال کرنے کا اعلان

Read Time:2 Minute, 44 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے افغان سرزمین سے پاکستان میں دانستہ اور غیر قانونی ڈرون دراندازی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے اس کارروائی کے جواب میں اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔

جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے دراندازی کرنے والے تمام ڈرونز کا بروقت سراغ لگایا، ان کی نگرانی کی اور انہیں ان کے مقررہ اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی ناکارہ بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پاکستان نے افغانستان میں 10 ایسے مقامات پر درست اور ہدفی فضائی و ڈرون کارروائیاں کیں جہاں ان ڈرونز کو لانچ اور ذخیرہ کیا جاتا تھا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ کارروائیاں دانستہ، درست، متوازن اور متناسب نوعیت کی تھیں اور انہیں صرف ان مخصوص فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا جو پاکستان کے خلاف کی جانے والی حملہ آور کارروائیوں سے براہ راست منسلک تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان حکومت اور اس کے رابطہ کاروں کو افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس کی مسلسل موجودگی کے حوالے سے بارہا اپنے تحفظات سے آگاہ کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت نے ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے والے عناصر کے خلاف قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنے کے بجائے دشمنانہ ڈرون کارروائیوں کے ذریعے صورتحال کو مزید کشیدہ کرنے کا راستہ اختیار کیا۔

عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والے کسی بھی حملے کو نہ قبول کرے گا اور نہ ہی برداشت کرے گا، خواہ یہ حملے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے ہوں یا خود افغان طالبان حکومت کی طرف سے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ دھمکیاں، تردیدیں یا ذمہ داری سے بچنے کی کوششیں حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتیں اور نہ ہی پاکستان کو اپنی سرزمین، عوام اور قومی سلامتی کے دفاع کے حق سے محروم کر سکتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے خلاف تمام دشمنانہ سرگرمیاں فوری طور پر بند کرے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر، ٹھوس، قابلِ تصدیق اور مستقل اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملے کرنے یا دشمنانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا اور علاقائی امن، مذاکرات اور تعمیری روابط کے لیے بدستور پرعزم ہے۔

تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس عزم کو کمزوری یا دشمنانہ اقدامات کو لامحدود طور پر برداشت کرنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مکمل عزم کے ساتھ دفاع کرے گا اور ان کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے آئندہ کسی بھی اشتعال انگیز اقدام کا مضبوط اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کی شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال
رحمان Next post تاجک صدر امام علی رحمان کی ریاستی آزادی کی 35ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت، قومی ترقی و اتحاد کے عزم کا اظہار