
صدر مملکت کا سمندری تحفظ، سلامتی اور ضابطہ جاتی نگرانی مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق سمندری تحفظ، سلامتی اور ضابطہ جاتی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
عالمی یومِ بحریہ کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے پاکستان کے ملاحوں، بحری شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد، بندرگاہی حکام، جہاز رانی کے اداروں، ریگولیٹرز، تربیتی اداروں اور دیگر متعلقہ افراد کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور لگن بحری نقل و حمل کی حفاظت اور کارکردگی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ رواں سال عالمی یومِ بحریہ کا موضوع ’’پالیسی سے عملی اقدامات تک: بحری برتری کے لیے پیش رفت‘‘ ہے، جو بین الاقوامی بحری معیارات کو مؤثر قومی قوانین، ضوابط اور عملی اقدامات میں ڈھالنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بحری تعلیم، تربیت اور پیشہ ورانہ استعداد میں مسلسل سرمایہ کاری کرنا ہوگی جبکہ بحری افرادی قوت کو ڈیجیٹل نیویگیشن، خودکاری، نئے ایندھن اور سائبر سکیورٹی سمیت جدید تکنیکی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کرنا بھی ضروری ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اپنے بحری بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے۔ پورٹ قاسم پر جدید ویسل ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کی تنصیب سے جہاز رانی کی سلامتی، بحری جہازوں کی نگرانی، سمندری سلامتی اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی مزید مضبوط بنانے اور بندرگاہوں اور بحری شعبے سے وابستہ افرادی قوت کو ماحول دوست بحری نقل و حمل کی جانب منتقلی کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ مضبوط بحری شعبہ تجارت، روزگار، علاقائی و عالمی روابط اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے ملکی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی معیارات پر مؤثر عملدرآمد، مضبوط ادارے، جدید بنیادی ڈھانچہ اور ہنرمند بحری پیشہ ور افراد پاکستان کو اس صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرنے میں مدد دیں گے۔
انہوں نے موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران مشکل حالات میں فرائض انجام دینے والے پاکستانی ملاحوں اور بحری شعبے سے وابستہ اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غیر معمولی حوصلے، پیشہ ورانہ صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔
صدر مملکت نے پاکستان کے ملاحوں اور تمام بحری شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کی خدمات کو سراہتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ بحری پالیسیوں اور معیارات کو مؤثر عملی اقدامات میں تبدیل کرنے اور سلامتی، کارکردگی اور ماحولیاتی ذمہ داری کے اعلیٰ معیار کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں۔