
تاجک صدر امام علی رحمان کی ریاستی آزادی کی 35ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت، قومی ترقی و اتحاد کے عزم کا اظہار
دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کے صدر اور قوم کے رہنما امام علی رحمان نے صوبہ سغد کے شہر خجند میں ریاستی آزادی کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ پروقار تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا۔
صدر امام علی رحمان نے تقریب میں شریک تمام افراد اور مہمانوں کو تاجکستان کی ریاستی آزادی کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ آزادی اور خودمختاری تاجک قوم کے لیے سب سے قیمتی نعمت، سب سے بڑی کامیابی اور قومی وجود کی اہم ترین علامت ہے۔ آزادی کی بدولت تاجکستان نے آزاد اور خوشحال وطن اور اپنی قومی ریاستی حیثیت حاصل کی، آباؤ اجداد کی قدیم روایات و رسومات اور قومی اقدار کو دوبارہ زندہ کیا اور عالمی سطح پر ملک کا باوقار مقام مستحکم کیا۔
صدر نے کہا کہ 35 سالہ آزادی کے دوران تاجکستان بالخصوص صوبہ سغد میں بڑے پیمانے پر تعمیر و ترقی اور بحالی کے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف گزشتہ پانچ برسوں کے دوران، ریاستی آزادی کی 35ویں سالگرہ کی تیاری کے عرصے میں صوبہ سغد کے شہروں اور اضلاع میں 15 ہزار 400 سماجی اور صنعتی منصوبے تعمیر، ازسرنو تعمیر یا مکمل کرکے فعال کیے گئے، جو منظور شدہ منصوبے سے 3,400 زیادہ ہیں۔
صدر امام علی رحمان نے کہا کہ گزشتہ 35 برسوں کے دوران حکومت نے صوبے کی معیشت کے مختلف شعبوں کی ترقی، عوام کو درپیش سماجی مسائل کے حل اور معیار زندگی میں بہتری کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں ہلکی صنعت، ایندھن و توانائی کے شعبے، معدنیات کی کان کنی و پروسیسنگ، دھات سازی اور تعمیراتی مواد کی پیداوار میں ترقی قومی معیشت کی پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
صدر نے سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بڑے منصوبوں کی تکمیل کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے اہم سرنگوں، جن میں ’’استقلال‘‘ اور ’’شہریستان‘‘ سرنگیں شامل ہیں، کی تعمیر اور دوشنبے-چناق اور عینی-پنجکنت شاہراہوں کی تعمیر نو کو ملک کو مواصلاتی مشکلات سے نکالنے کے لیے اہم اقدامات قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ پیچیدہ عالمی حالات میں ریاستی آزادی کی کامیابیوں کا تحفظ، قومی استحکام و اتحاد کو مضبوط بنانا اور ملک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہر محب وطن شہری، بالخصوص نوجوانوں سے بلند احساسِ ذمہ داری اور مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔
صدر امام علی رحمان نے صوبہ سغد کے عوام کے بلند قومی اور حب الوطنی کے جذبے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پُرامید ہیں کہ عوام کی مشترکہ اور مخلصانہ محنت سے تاجکستان کو مزید ترقی یافتہ، خوبصورت، خوشحال اور مضبوط بنایا جائے گا۔
صدر کے خطاب کے بعد تقریب کے مقام پر ملک کے نامور فنکاروں اور صوبہ سغد کے فنکاروں نے ایک رنگا رنگ ثقافتی و موسیقی پروگرام پیش کیا۔
پروگرام میں گیت، موسیقی اور رقص کے ذریعے آزادی کے دور میں تاجکستان کی ترقی و کامیابیوں، ملک میں امن و استحکام کے قیام، قومی اتحاد کے فروغ اور عالمی سطح پر اہم مسائل کے حل کے لیے صدر کی تجاویز کو اجاگر کیا گیا۔
فنکاروں نے معروف تاجک شعراء اور موسیقاروں کی تخلیقات پیش کرتے ہوئے وطن، آزادی، قومی اتحاد اور دیگر قومی اقدار کو خراجِ تحسین پیش کیا، جس سے تقریب کے جشن بھرے ماحول میں مزید رونق پیدا ہوئی۔