مراکش

مراکش کے شاہ محمد ششم کا سعودی عرب سے اظہار یکجہتی، حوثی حملوں کی شدید مذمت

Read Time:2 Minute, 24 Second

رباط، یورپ ٹوڈے: مراکش کے شاہ محمد ششم نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے ملک کی بھرپور یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے مملکت پر حوثیوں کے بار بار ہونے والے حملوں اور مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے۔

شاہ محمد ششم نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے نام اپنے دو الگ الگ پیغامات میں سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے لیے مراکش کی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا۔

مراکشی فرمانروا نے سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات، اہم بنیادی ڈھانچے، شہروں اور آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے مراکش کی مذمت کو مزید تقویت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ نازک صورتحال میں تاریخی ذمہ داری، مذہبی اقدار اور تزویراتی تقاضے ہم سب سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ مسلم امہ کے حقوق، خودمختاری، سلامتی اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے متحد ہو کر کھڑے ہوں۔

شاہ محمد ششم نے کہا کہ یہ حملے صرف سعودی عرب، اس کے عوام اور حجاج کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ایک ارب 80 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے جذبات پر بھی حملہ ہیں۔

مراکشی بادشاہ نے ان حملوں کو ’’مجرمانہ کارروائیاں‘‘ قرار دیتے ہوئے حوثیوں اور ان کی حمایت، مالی معاونت اور انہیں اسلحہ فراہم کرنے والوں کو ان کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

انہوں نے زور دیا کہ سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے دیگر ممالک کی سلامتی اور استحکام مراکش کی اپنی سلامتی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

شاہ محمد ششم نے کہا کہ سعودی عرب پر ہونے والا کوئی بھی حملہ مراکش پر حملے کے مترادف ہے۔ انہوں نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ کھڑے رہنے کو مشترکہ تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا۔

مراکشی فرمانروا نے مسلح گروہوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والی علاقائی قوتوں سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے میں سعودی عرب کے لیے مراکش کی مسلسل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف وسیع تر علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے اہم سمندری راستوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔

شاہ محمد ششم نے مزید کہا کہ مسلسل حملے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں، جن میں 2015 کی قرارداد 2216 اور 2024 کی قرارداد 2722 بھی شامل ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ شہری علاقوں، اقتصادی تنصیبات اور مقدس مقامات پر حملے بین الاقوامی انسانی قانون، بین الاقوامی معاہدوں اور مسلمہ عالمی اصولوں کے منافی ہیں، اور ذمہ دار عناصر کے احتساب پر زور دیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کی بلوچستان میں کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
انڈونیشیا Next post انڈونیشیا کے وزیر خارجہ کا انتونیو گوتریس کی قیادت اور خدمات کو خراج تحسین