یوکرین

روس یوکرین کے ساتھ جامع امن مذاکرات کے لیے بدستور تیار ہے: پیسکوف

Read Time:1 Minute, 42 Second

ماسکو، یورپ ٹوڈے: کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ بحیرہ اسود میں یوکرین کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی قیمت یوکرین کو چکانا ہوگی اور وہ پہلے ہی اس کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ روس یوکرین کے ساتھ محض عارضی جنگ بندی کے بجائے پائیدار امن کا خواہاں ہے۔

جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکرات کے لیے بدستور کھلا ہے، تاہم ان کے بقول یوکرینی حکام جامع معاہدے تک پہنچنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ جزوی یا الگ الگ نوعیت کے سمجھوتے دونوں ممالک کو پُرامن تصفیے کے قریب نہیں لا سکتے۔

پیسکوف نے کہا، ’’روس ہمیشہ مذاکرات کے لیے کھلا ہے،‘‘ اور واضح کیا کہ ماسکو کا مؤقف ہے کہ ہونے والے معاہدے جامع نوعیت کے ہونے چاہئیں۔

کریملن ترجمان کے مطابق روس جنگ بندی کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ یوکرین کے ساتھ دیرپا امن کے قیام کے لیے جامع تصفیہ چاہتا ہے۔

بحیرہ اسود کی صورتحال

بحیرہ اسود کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے پیسکوف نے کہا کہ روس یوکرین کی جانب سے کیے گئے حملوں کا جواب دے رہا ہے اور آئندہ بھی اس سلسلے میں اقدامات جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا، ’’یوکرین کو اس کی قیمت چکانا ہوگی۔ وہ پہلے ہی قیمت ادا کر رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔‘‘

پیسکوف نے کہا کہ روس اپنی فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور یوکرینی افواج تک سمندری راستے سے فوجی سازوسامان، گولہ بارود اور ایندھن کی رسد روکنا اہم مقاصد میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس بحری راستے سے ایسی رسد یوکرین تک پہنچنے سے روکنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

روس، یوکرین اور بحیرہ اسود میں ممکنہ جنگ بندی سے متعلق ترکیہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے بات چیت میں معاونت کے لیے کسی اقدام کی رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے پیسکوف نے کہا کہ ماسکو اس اقدام سے آگاہ ہے، تاہم فی الوقت اس کی کوئی واضح تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
زرداری Previous post صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات، سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال
رحمان Next post تاجک صدر امام علی رحمان کی روسی نائب وزیراعظم مرات خسنولین سے ملاقات، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر گفتگو