
ویتنام میں قومی جدت طرازی کے عمل کے مرکز میں کاروباری اداروں کو لانے پر زور
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے نائب وزیراعظم ہو کووک ڈنگ نے قومی جدت طرازی کے عمل میں کاروباری اداروں کو مرکزی حیثیت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدت طرازی کو پیداواری صلاحیت، مسابقت اور پائیدار معاشی ترقی کے اہم محرک کے طور پر فروغ دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے یہ بات 4 اکتوبر کو ہنوئی میں ویتنام انوویشن ڈے 2026 کے سلسلے میں منعقدہ سرگرمیوں کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ جدت طرازی کا دائرہ محض سرگرمیوں کے انعقاد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کا محور ٹھوس اور قابلِ پیمائش نتائج کا حصول ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری ادارے مارکیٹ کی ضروریات کی نشاندہی، عملی مسائل کے تعین، وسائل کی سرمایہ کاری، نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور ان پر عبور حاصل کرنے، پیداوار کو منظم کرنے اور جدید مصنوعات و خدمات صارفین تک پہنچانے کے حوالے سے سب سے موزوں حیثیت رکھتے ہیں۔
نائب وزیراعظم کے مطابق جدت طرازی کے ذریعے کاروباری اداروں کو ٹیکنالوجی کی تجدید اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے، مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے، اخراجات کم کرنے، نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور عالمی ویلیو چینز میں زیادہ مؤثر انداز میں شامل ہونے کے قابل بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے لیے جدت طرازی کے حتمی فوائد میں روزگار کے بہتر مواقع، زیادہ آمدنی، معیاری مصنوعات و خدمات اور معیارِ زندگی میں بہتری شامل ہونی چاہیے۔
ہو کووک ڈنگ نے ویتنام کے جدت طرازی کے ماحولیاتی نظام میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں اس وقت 4,000 سے زائد جدید کاروباری ادارے، تنظیمیں اور افراد، تقریباً 208 وینچر کیپیٹل فنڈز اور 1,400 سے زائد معاون ادارے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 34.6 فیصد کاروباری ادارے جدت طرازی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ ملک بھر میں سائنس و ٹیکنالوجی کے 20 ایکسچینجز بھی فعال ہیں۔
تاہم، نائب وزیراعظم نے مشاہدہ کیا کہ یہ کامیابیاں ویتنام کی ترقی اور عالمی مسابقتی تقاضوں کے مقابلے میں اب بھی ناکافی ہیں۔ انہوں نے ملکی کاروباری اداروں میں تکنیکی جدت طرازی کو مزید مضبوط بنانے اور سائنس و ٹیکنالوجی کی مارکیٹ کو ترقی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کاروباری اداروں اور ٹیکنالوجی، ماہرین، مالی وسائل، دانشورانہ ملکیت، ثالثی اداروں اور مارکیٹوں کے ذرائع کے درمیان روابط مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدت طرازی مراکز کو ایسے مؤثر پلیٹ فارمز کے طور پر کام کرنا چاہیے جو کاروباری اداروں کو تحقیقی اداروں، جامعات، ماہرین، سرمایہ کاروں اور دیگر وسائل سے منسلک کریں۔
نائب وزیراعظم نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تحقیقی اداروں اور جامعات کو سائنسی تحقیق کے معیار میں بہتری کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تجارتی بنیادوں پر استعمال کے عمل کو تیز کرنا، جدید کاروباری اداروں کی معاونت اور اعلیٰ معیار کے انسانی وسائل کی تیاری پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جدت طرازی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کا براہِ راست مقصد ویتنام کی داخلی تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور عالمی جدت طرازی کے نیٹ ورکس میں ملک کی پوزیشن مزید مستحکم کرنا ہونا چاہیے۔
ویتنام انوویشن ڈے 2026 کا انعقاد "جدت طرازی—پورے معاشرے کی ترقی کا محرک” کے موضوع کے تحت کیا گیا۔ تقریب میں ریاستی اداروں، کاروباری شعبے، تحقیقی تنظیموں، جامعات اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان جدت طرازی کے فروغ کے لیے مضبوط تعاون اور مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔