
ویتنام اور کینیڈا کا اسٹریٹجک شراکت داری کے ایکشن پلان پر اتفاق
اوٹاوا، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے وزیر خارجہ لے ہوائی ترونگ اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے دوطرفہ مذاکرات کے دوران ویتنام۔کینیڈا اسٹریٹجک شراکت داری پر عملدرآمد کے لیے ایک ایکشن پلان منظور کیا ہے۔
اوٹاوا میں جمعہ کو ہونے والی ملاقات کے دوران منظور کیے گئے ایکشن پلان کا مقصد دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان طے پانے والے عزم اور ترجیحات کو عملی پروگراموں اور منصوبوں میں تبدیل کرنا ہے۔
ایکشن پلان میں سیاسی و سفارتی امور، معیشت و تجارت، سرمایہ کاری، سائنس و ٹیکنالوجی، جدت طرازی، ڈیجیٹل تبدیلی، صحت و ادویات، تعلیم و تربیت، اعلیٰ معیار کی افرادی قوت کی ترقی، توانائی کے تحفظ، ماحولیات، پائیدار ترقی، ٹرانسپورٹ، سپلائی چین مینجمنٹ اور بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ دفاع و سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انصاف، ثقافت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون بھی ایکشن پلان کا حصہ ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے عوام اور کاروباری اداروں کے لیے عملی فوائد پیدا کرنا ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے ایکشن پلان کا باقاعدگی سے جائزہ لینے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اسے اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
وزیر خارجہ لے ہوائی ترونگ نے کہا کہ ویتنام کینیڈا کے ساتھ دوستی اور تعاون کو ہمیشہ اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک بڑھانے کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام باہمی اعتماد میں اضافے، مشترکہ مفادات اور اسٹریٹجک وژنز میں بڑھتی ہوئی ہم آہنگی اور تعاون کے وسیع امکانات کی عکاسی کرتا ہے۔
کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی ویتنام کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا اس شراکت داری کو مزید گہرا، مؤثر اور بامعنی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
دونوں وزرا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کی وزارتیں خارجہ امور اعلیٰ قیادت کے درمیان طے پانے والے مشترکہ مؤقف اور معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد کے لیے اپنا رابطہ کار کردار مزید مضبوط کریں گی۔ اس مقصد کے لیے تمام سطحوں پر روابط اور تبادلوں کا سلسلہ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کی وزارتوں، اداروں، مقامی حکومتوں اور کاروباری شعبے کے درمیان رابطہ کاری بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
دونوں فریقوں نے نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر سیاسی مشاورت کے طریقہ کار کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے پر اتفاق کیا تاکہ اعلیٰ قیادت کے فیصلوں اور معاہدوں پر عملدرآمد کے لیے ویتنام کی وزارت خارجہ اور کینیڈا کے گلوبل افیئرز کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
ملاقات کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر ترونگ نے کینیڈا پر زور دیا کہ وہ کثیرالجہتی اور علاقائی فورمز میں تعاون کو مزید بڑھائے تاکہ بین الاقوامی صورتحال میں جاری پیچیدگیوں کے دوران امن، استحکام، تعاون اور ترقی کے فروغ میں کردار ادا کیا جا سکے۔
وزیر آنند نے ویتنام کو آسیان اور ہند۔بحرالکاہل خطے میں کینیڈا کا اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے آسیان۔کینیڈا اسٹریٹجک شراکت داری کے فریم ورک کے تحت تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
دونوں ممالک نے اقوام متحدہ، آسیان اور آسیان کی زیر قیادت فورمز، ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی)، جامع و ترقی پسند ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ معاہدے (CPTPP) اور فرانکوفونی برادری میں قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ویتنام اور کینیڈا نے بالترتیب 2027 اور 2029 میں اے پی ای سی کی میزبانی کے لیے ایک دوسرے کی حمایت کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ ویتنام نے 2028 میں فرانکوفونی سربراہ اجلاس کی میزبانی کے لیے کینیڈا کی حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے اسٹریٹجک شراکت داری کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے باقاعدہ روابط اور قریبی رابطہ کاری برقرار رکھنے، اس کی پیش رفت کا وقتاً فوقتاً جائزہ لینے اور ترجیحی پروگراموں و منصوبوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا تاکہ قریبی مدت میں ٹھوس نتائج حاصل کیے جا سکیں۔