
انڈونیشیا کا معیاری سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی ترقی کے لیے لائسنسنگ نظام میں اصلاحات تیز کرنے کا فیصلہ
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی حکومت نے اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافے کے لیے معیاری سرمایہ کاری کو راغب کرنے، ویلیو ایڈڈ صنعتوں کو فروغ دینے اور مربوط لائسنسنگ خدمات کو تیز کرنے کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔
انڈونیشیا کے وزیر برائے سرمایہ کاری و ڈاؤن اسٹریم انڈسٹریز روزان روزسلانی نے کہا ہے کہ حکومت اس امر کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ سرمایہ کاری سے زیادہ اقتصادی فوائد حاصل ہوں اور انڈونیشیا کے شہریوں کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں روزان روزسلانی نے کہا کہ حکومت مسلسل ایسی معیاری سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جو اقتصادی ترقی کے ساتھ روزگار کی تخلیق پر بھی مثبت اثرات مرتب کرے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات صدر پرابوو سوبیانتو کی جانب سے ریڈ اینڈ وائٹ کابینہ کے متعدد وزرا کے ساتھ ایک محدود اجلاس میں جاری کردہ ہدایات کے تحت کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد سرمایہ کاری کے معیار کو بہتر بنانا اور ملکی صنعتی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
وزیر سرمایہ کاری کے مطابق حکومتی کوششوں کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں اور 2026 کی تیسری سہ ماہی میں مجموعی سرمایہ کاری میں ڈاؤن اسٹریم صنعتوں کا حصہ نمایاں طور پر بڑھا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2024 میں مجموعی سرمایہ کاری میں ان صنعتوں کا حصہ تقریباً 26 فیصد تھا، جو رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں بڑھ کر 35 فیصد ہو گیا۔
انڈونیشیا عالمی سپلائی چین میں اپنی پوزیشن مستحکم بنانے کے لیے اسٹریٹجک صنعتوں، بالخصوص نکل کی پروسیسنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں کی تیاری کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد پیداواری صلاحیت اور تکنیکی ترقی میں توازن قائم کرنے کے ساتھ ملک کے اندر اضافی اقتصادی قدر پیدا کرنا ہے۔
روزان روزسلانی نے بتایا کہ سرمایہ کاری سے متعلق انتظامی اصلاحات کے تحت 28 وزارتوں اور متعلقہ سرکاری اداروں پر مشتمل مربوط لائسنسنگ نظام کو بھی تیز کیا جا رہا ہے۔
نظرثانی شدہ طریقہ کار کے تحت اگر متعلقہ تکنیکی ادارے مقررہ مدت میں لائسنسنگ کا عمل مکمل کرنے میں ناکام رہیں تو وزارتِ سرمایہ کاری خود اجازت نامے جاری کر سکتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری کارروائیوں میں تاخیر اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت اب تک اس طریقہ کار کے تحت تقریباً 328 سرمایہ کاری اجازت نامے جاری کر چکی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں کو سہولت ملی ہے اور انتظامی رکاوٹوں میں کمی آئی ہے۔
حکومت غیر ملکی کارکنوں کے لیے انتظامی طریقہ کار کو بھی آسان بنانے پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت محدود مدت کے رہائشی اجازت نامے، یعنی KITAS، کے اجرا کا دورانیہ کئی ماہ سے کم کرکے صرف پانچ کاروباری دنوں تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر سرمایہ کاری نے کاروباری ماحول میں یقینی اور قابلِ پیش گوئی حالات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاروں کے لیے پالیسیوں اور ضوابط میں تسلسل بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ وہ غیر متوقع تاخیر اور انتظامی پیچیدگیوں سے بچنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی اصلاحات کا مقصد غیر یقینی صورتحال کم کرنا، لائسنسنگ کے عمل کو مؤثر بنانا اور سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد ماحول فراہم کرنا ہے۔
ان اقدامات کے ذریعے انڈونیشیا معیاری سرمایہ کاری کو راغب کرنے، صنعتی ترقی کو مضبوط بنانے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور عالمی سپلائی چین میں اپنی مسابقتی حیثیت بہتر بنانے کا خواہاں ہے۔