
وزیراعظم شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی اصولی منظوری دے دی، سیلز ٹیکس پر آئی ایم ایف سے مزید مشاورت ہوگی
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم شہباز شریف نے تاخیر کا شکار نئی آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے کی اصولی منظوری دے دی ہے، تاہم الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس سمیت بعض امور پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مزید مشاورت کی جائے گی۔ آئی ایم ایف کو اعتماد میں لینے کے بعد پالیسی کی وفاقی کابینہ سے منظوری حاصل کی جائے گی، جبکہ ٹیکس سے متعلق قانون سازی بھی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منگل کو نئی آٹو پالیسی کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پالیسی کے مسودے کی اصولی منظوری دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح سے متعلق بعض تحفظات ہیں اور اس کا مطالبہ ہے کہ ان گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کیا جائے۔
مجوزہ پالیسی میں مختلف اقسام کی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح الگ الگ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے تحت بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 6 فیصد، پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد جبکہ ہائبرڈ اور اندرونی احتراقی انجن (آئی سی ای) والی گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ آٹو پالیسی کی مدت 30 جون 2026 کو ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد سے گاڑیوں کی صنعت اور صارفین نئی پالیسی کے منتظر ہیں۔ پالیسی کی منظوری میں تاخیر کے باعث گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں نے پیداوار اور قیمتوں سے متعلق اہم فیصلے بھی مؤخر کر رکھے ہیں۔
وزیراعظم نے نئی آٹو پالیسی کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے وفاقی وزیر قانون و انصاف کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل تمام اہم امور کا جامع جائزہ لیا اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے تحفظات پر شق وار غور کیا۔ اس کے علاوہ پالیسی کے حتمی مسودے کا قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں سے بھی جائزہ لیا گیا۔
اس سے قبل وزیراعظم نے وفاقی وزیر بجلی کی سربراہی میں ایک بین الوزارتی کمیٹی بھی قائم کی تھی، جس نے آٹوموٹیو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 کے مسودے میں ترامیم تجویز کرتے ہوئے پاکستان کے آٹوموبائل سیکٹر کی بڑے پیمانے پر تنظیم نو کی سفارش کی تھی۔
کمیٹی کی تجاویز میں پاکستانی آٹو پارٹس کو عالمی ویلیو چینز کے ساتھ مربوط کرنا، نئی الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے اقدامات کرنا، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لانا، مقامی ویلیو ایڈیشن میں اضافہ کرنا اور آٹوموبائل ٹیرف میں بتدریج کمی شامل ہیں۔
مجوزہ پالیسی کا مقصد ملک میں آٹوموبائل کی صنعت کو ترقی دینا، مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا اور پاکستانی آٹو پارٹس کی عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانا ہے۔ تاہم پالیسی پر حتمی پیش رفت آئی ایم ایف کے ساتھ سیلز ٹیکس سے متعلق امور پر مشاورت اور وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہوگی۔