ویتنام

ویتنام اور بیلجیم کا دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ پر اتفاق

Read Time:5 Minute, 27 Second

برسلز، یورپ ٹوڈے: ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور صدر تو لام اور بیلجیم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور نے دونوں ممالک کے درمیان روایتی دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں کثیرالجہتی تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی تعاون سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ عالمی امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔

یہ عزم جمعہ کو برسلز میں ہونے والی ملاقات کے دوران ظاہر کیا گیا، جو صدر تو لام کے بیلجیم کے سرکاری دورے کا حصہ تھی۔

بیلجیم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور نے صدر تو لام اور ان کے اعلیٰ سطحی ویتنامی وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ انہوں نے اس دورے کو ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اپریل 2025 میں بیلجیم کے بادشاہ اور ملکہ کے ویتنام کے سرکاری دورے کی کامیابی کو آگے بڑھانے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی تحریک دینے میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم ڈی ویور نے ویتنام کی علاقائی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت کو سراہتے ہوئے ملک کی نمایاں سماجی و اقتصادی کامیابیوں پر مبارکباد دی۔ انہوں نے ویتنام کو جنوب مشرقی ایشیا میں بیلجیم کا ترجیحی شراکت دار قرار دیا اور مشترکہ مفادات اور صلاحیتوں کے حامل شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔

اس موقع پر صدر تو لام نے یورپی یونین میں بیلجیم کی مرکزی حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے ویتنام کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے بیلجیم کی وفاقی حکومت اور علاقائی حکام کی معاونت کو سراہا۔

انہوں نے اکتوبر 2023 میں بیلجیم کی وفاقی پارلیمنٹ کی جانب سے ایجنٹ اورنج سے متاثرہ ویتنامی شہریوں کی حمایت میں قرارداد کی منظوری کو خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان دوستی، یکجہتی اور انسانی ہمدردی کے جذبات کا نمایاں اظہار ہے۔

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا، خصوصاً 2018 میں زراعت کے شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کے بعد تعاون میں اضافے کو سراہا۔ انہوں نے سیاسی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے، باقاعدہ تبادلوں کو جاری رکھنے اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ تعلقات کو نئی سطح تک پہنچایا جا سکے۔

سیاسی، سفارتی، دفاعی اور سکیورٹی تعاون کے حوالے سے دونوں ممالک نے تمام سطحوں پر روابط بڑھانے، بالخصوص مختلف ذرائع سے اعلیٰ سطحی دوروں کے تبادلوں میں اضافے اور موجودہ تعاون کے طریقہ کار اور معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے ویتنام کی وزارتوں، متعلقہ شعبوں اور مقامی انتظامیہ کے درمیان بیلجیم کی وفاقی اور علاقائی حکومتوں کے ساتھ روابط مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اس کا مقصد مستقبل قریب میں دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک لے جانے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے۔

دفاع اور سکیورٹی تعاون کو مجوزہ نئے فریم ورک کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے دونوں فریقوں نے تربیت، فوجی طب، اقوام متحدہ کے امن مشنز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون اور معلومات کے تبادلے کو ترجیحی شعبوں میں شامل کیا۔

اقتصادی شعبے میں دونوں رہنماؤں نے تجارت اور سرمایہ کاری کو نئی وسعت دینے پر زور دیا اور ان شعبوں میں بڑے پیمانے پر اسٹریٹجک منصوبے شروع کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا جہاں بیلجیم کو نمایاں مہارت حاصل ہے اور ویتنام کی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔ ان شعبوں میں بندرگاہوں کی ترقی، جدید لاجسٹکس نیٹ ورکس، ماحول دوست توانائی، ماحولیاتی صنعتی پارکس اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل جدید زرعی ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

صدر تو لام نے بیلجیم کی بڑی کمپنیوں کو ویتنام میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دیتے ہوئے یقین دلایا کہ ان کی حکومت طویل المدتی کاروباری مواقع تلاش کرنے والے بیلجیمی اداروں کے لیے سازگار، مستحکم اور محفوظ کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے بیلجیم پر زور دیا کہ وہ ویتنام اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار جاری رکھے، ویتنام۔یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (EVFTA) کے فوائد سے بھرپور استفادے میں معاونت کرے اور یورپی کمیشن پر زور دے کہ وہ غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر منضبط ماہی گیری (IUU) کے معاملے پر ویتنام کی سمندری خوراک کی برآمدات کے حوالے سے جاری ’یلو کارڈ‘ انتباہ ختم کرے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی بھی مذاکرات کا اہم موضوع رہے۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور اسٹریٹجک و ابھرتی ہوئی صنعتوں میں تعاون کے وسیع امکانات کو تسلیم کیا۔

انہوں نے بائیو ٹیکنالوجی، ادویہ سازی، صحت کی دیکھ بھال اور سیمی کنڈکٹرز کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ جدت اور تکنیکی ترقی کے لیے وسیع تر اقدامات پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک نے تعلیم اور تربیت کو بھی دوطرفہ تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔ انہوں نے تعلیمی روابط کو وسعت دینے، ثقافتی، کھیلوں اور سیاحتی تبادلوں کو فروغ دینے اور مقامی حکام کے درمیان عملی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

صدر تو لام نے بیلجیم پر زور دیا کہ وہ ویتنامی برادری کے لیے مستحکم طرزِ زندگی اور معاشرتی انضمام کو آسان بنانے کی غرض سے معاون قانونی ڈھانچے اور سماجی بہبود کے انتظامات کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ ویتنامی برادری بیلجیمی معاشرے میں قابلِ قدر کردار ادا کرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ایک مضبوط پل کا کام بھی کر سکتی ہے۔

علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے امن و استحکام برقرار رکھنے، بحری اور فضائی راستوں پر آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے، سلامتی و تحفظ کے فروغ، کثیرالجہتی نظام کی حمایت اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے مرکزی کردار کی حمایت کا اعادہ کیا اور کثیرالجہتی فورمز اور بین الاقوامی تنظیموں، بالخصوص اقوام متحدہ، انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف لا فرانکوفونی (OIF) اور آسیان۔یورپی یونین اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت باہمی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

مذاکرات کے اختتام پر صدر تو لام نے ویتنام کے وزیراعظم لے من ہنگ کی جانب سے بیلجیم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور کو ویتنام کے دورے کی دعوت پہنچائی۔

وزیراعظم ڈی ویور نے یہ دعوت قبول کرتے ہوئے مستقبل قریب میں جنوب مشرقی ایشیائی ملک کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس پیش رفت کو دونوں حکومتوں کے درمیان دوستی اور تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے مشترکہ عزم کا مظہر قرار دیا گیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
انڈونیشیا Previous post انڈونیشیا اور آسٹریلیا کا ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کے تحفظ کے لیے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق
ترکمانستان Next post ترکمانستان میں اقوام متحدہ کے دن کی تقریب، عالمی امن، کثیرالجہتی سفارت کاری اور پائیدار ترقی کے عزم کا اعادہ