انا پرست ہے مجھ کو کہاں منائے گا

انا پرست ہے مجھ کو کہاں منائے گا
وہ اپنے ہاتھ سے اک دن مجھے گنوائے گا
زمانہ فرصت_ یاد آوری کہاں دے گا
بہل ہی جائے گا آخر تجھے بھلائے گا
ہمارا لہجہ بہت تلخ ہے یہی سچ ہے
پیا ہے زہر اثر کچھ تو اس کا آئے گا
بہت ہی سوز ہے آنکھوں میں کرب باتوں میں
سبب نہ جاننا تجھ کو بہت رلائے گا
ہمارا ساتھ بھلے مختصر رہا لیکن
میں کتنا خاص تھا یہ وقت ہی بتائے گا