انا پرست ہے مجھ کو کہاں منائے گا
Read Time:23 Second

انا پرست ہے مجھ کو کہاں منائے گا
وہ اپنے ہاتھ سے اک دن مجھے گنوائے گا
زمانہ فرصت_ یاد آوری کہاں دے گا
بہل ہی جائے گا آخر تجھے بھلائے گا
ہمارا لہجہ بہت تلخ ہے یہی سچ ہے
پیا ہے زہر اثر کچھ تو اس کا آئے گا
بہت ہی سوز ہے آنکھوں میں کرب باتوں میں
سبب نہ جاننا تجھ کو بہت رلائے گا
ہمارا ساتھ بھلے مختصر رہا لیکن
میں کتنا خاص تھا یہ وقت ہی بتائے گا