
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم
پشاور، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھنے اور خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، انجینئر امیر مقام، رانا ثناء اللہ، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، چیف سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور کور کمانڈر پشاور سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران مسلح افواج، پولیس اور عوام کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسکول میں بچوں اور ایک استاد کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا کو واقعے کی شفاف تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا وطن عزیز کی پہلی مضبوط دفاعی دیوار ہے، تاہم گزشتہ چند برسوں میں پیدا ہونے والے حالات نے صوبے کو شدید متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھ سال قبل خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک میں امن قائم ہو چکا تھا اور 2017ء اور 2018ء میں دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی تھیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ عوام، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاک فوج نے مشترکہ جدوجہد کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کیا تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعد ازاں قومی مفادات کے حوالے سے غفلت اور بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی عزت و توقیر کا احترام نہ کرنا ملک دشمنی سے کم نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم، صحت اور عوام کے جان و مال کے تحفظ جیسے بنیادی معاملات کو نظرانداز کرکے دہشت گردوں سے معاملات کیے گئے۔ ان کے مطابق گزشتہ حکومت کے دور میں خیبر پختونخوا پولیس کی پانچ ہزار خالی آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے بھی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اب تک 800 ارب روپے سے زائد فراہم کیے جا چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت کی مشترکہ کوششوں سے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے، تاہم خیبر پختونخوا کو بدامنی کی لپیٹ میں چھوڑ کر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صوبے میں پولیس، سیف سٹیز منصوبوں اور سی ٹی ڈی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی صورتِ حال اور وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے صوبائی انتظامیہ کو انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کے لیے مزید معاونت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔
امن و استحکام کے لیے وفاق اور صوبے کا تعاون ناگزیر ہے، گورنر خیبر پختونخوا
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن کا قیام تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ترجیح ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اگر تمام ادارے ایک صفحے پر ہوں تو امن و ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی۔
گورنر نے کہا کہ صوبے سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، جبکہ مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل اور مؤثر حکمتِ عملی مرتب کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ایسا ماحول قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے اور ترقی کے عمل میں بھرپور حصہ لے سکے۔
فیصل کریم کنڈی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر تعاون کے ذریعے خیبر پختونخوا کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کا مثالی صوبہ بنایا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر پشاور پہنچے تھے، جہاں انہوں نے صوبے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتِ حال سمیت حالیہ پیش رفت کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والوں کے اہلِ خانہ کے لیے خصوصی امدادی پیکج کے اعلان کا امکان بھی ظاہر کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم کا 20 اکتوبر کو طے شدہ دورۂ پشاور ملتوی کر دیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے جمعرات کو صوبائی دارالحکومت کا دورہ کیا۔