
آذربائیجان کے گاراباغ اور رومانیہ کے مارامورش خطے کے درمیان کاروباری تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال
بخارسٹ، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کے صدر کے خنکندی شہر، آغدرہ اور خوجالی اضلاع کے خصوصی نمائندے الچن یوسوبوف کی قیادت میں ایک وفد نے رومانیہ کے سرکاری دورے کے دوران مارامورش ریجن کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فلورینٹن نکولائے تُش سے ملاقات کی۔
ملاقات میں مارامورش خطے سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد اور مقامی تاجروں نے بھی شرکت کی۔
فریقین نے آذربائیجان کے گاراباغ خطے اور رومانیہ کے مارامورش خطے کے درمیان تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا، جبکہ کاروباری روابط مضبوط بنانے اور دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو وسعت دینے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔
فلورینٹن نکولائے تُش نے دونوں خطوں کے کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست روابط قائم کرنے اور تجارت کے حجم میں اضافے کے لیے باہمی دوروں کے انعقاد میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
الچن یوسوبوف نے شرکا کو گاراباغ میں جاری بڑے پیمانے پر تعمیراتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کے لیے پیدا کیے گئے سازگار حالات، جن میں مختلف ٹیکس مراعات بھی شامل ہیں، پر بھی روشنی ڈالی۔
آذربائیجان اور رومانیہ کے درمیان تجارتی حجم میں مثبت رجحان کا ذکر کرتے ہوئے یوسوبوف نے کہا کہ بین العلاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو متنوع بنانے کے لیے اضافی مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مارامورش کے کاروباری افراد اور مقامی تاجروں کو گاراباغ کا دورہ کرنے اور خطے میں سرمایہ کاری اور تعاون کے مواقع کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دی۔
ملاقات کے دوران شرکا نے باہمی تعاون کے ممکنہ شعبوں پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا اور براہِ راست کاروباری روابط کے فروغ کے امکانات کا جائزہ لیا۔
اقتصادی تعاون کے فروغ کی کوششوں کے تحت آذربائیجانی وفد نے مارامورش میں آرامس فیکٹری کا بھی دورہ کیا، جو یورپ کے بڑے فرنیچر ساز اداروں میں شمار ہوتی ہے۔ وفد نے کمپنی کی پیداواری تنصیبات کا معائنہ کیا اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ حاصل کی۔
فرنیچر ساز کمپنی کی انتظامیہ نے گاراباغ کے ساتھ تعاون میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل قریب میں خطے کا دورہ کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔
دورے سے آذربائیجان اور رومانیہ کے درمیان بین العلاقائی اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔