بالیدگی
سائیں۔۔۔!
آپ کا ہجر بارش کی طرح ہے
وہ بارش
جس کے برسنے سے
زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے
یوں ہی
میری ذات پر آپ کی جدائی برستی ہے
جومیرے دل کی بنجر دھرتی کوجل تھل کرتی ہے
اور میری روح پر
شادابی بن کر اُترتی ہے
سائیں۔۔۔! مجھےآپ کا ہجر
محرومی نہیں لگتا
بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے
جو مجھےزندہ رکھتا ہے۔۔۔!
About Post Author
یورپ ٹوڈے نیوزسروس
مزیدخبریں
حالتِ بے سروسامانی نہیں جاتی ہے
حالتِ بے سروسامانی نہیں جاتی ہےاس بھرے دشت کی ویرانی نہیں جاتی ہے شامِ افسوس نکلتے ہوئے پہلو سے ترےکیا...
منقبت در شان حضرت علی کرم اللہ وجہہ
خدا کا نور مبین علی ہےہے سب کو جس پر یقیں علی ہے بڑا مبارک ہے اسم حیدرگلاب چہرہ حٙسین...
انا پرست ہے مجھ کو کہاں منائے گا
انا پرست ہے مجھ کو کہاں منائے گاوہ اپنے ہاتھ سے اک دن مجھے گنوائے گا زمانہ فرصت_ یاد آوری...
رفعت وحید کی دو غزلوں کا فکری و فنی تجزیہ
پہلی غزلخون کی حدتوں میں اتری ہےاک اداسی رگوں میں اتری ہےکیا خبر ہے کہ دن کہاں بچھڑارات کب کھڑکیوں...
جیا قریشی کی دو غزلوں پر تبصرہ
پہلی غزل گناہگار ہوں شوقِ ثواب میں چپ ہوں وہی بلاۓ گا جس کی جناب میں چپ ہوں اداس ہو...
شازیہ اکبرکی غزل پرتبصرہ – ٹھہرے تھے میرے ساتھ مگراس قدر نہیں
شازیہ اکبر کی یہ غزل — جو اپنی ہیئت، فکری گہرائی اور داخلی موسیقیت میں خاصی پختہ معلوم ہوتی ہے۔...
