
روم میں آذربائیجان کی مذہبی رواداری اور پرامن بقائے باہمی پر دستاویزی فلم ’’ہارمنی‘‘ کی نمائش
روم، یورپ ٹوڈے: اٹلی کے دارالحکومت روم میں آذربائیجان کی مذہبی رواداری، کثیرالثقافتی اقدار اور مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی دیرینہ روایات کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم ’’ہارمنی‘‘ کی نمائش کی گئی۔
28 ستمبر کو منعقدہ تقریب میں حیدر علییف فاؤنڈیشن کی نائب صدر لیلیٰ علییوا نے شرکت کی۔ فلم کی تیاری باکو میڈیا سینٹر، فاؤنڈیشن فار دی پروموشن آف مورل ویلیوز اور آذربائیجان کی ریاستی کمیٹی برائے مذہبی تنظیموں کے امور کے اشتراک سے عمل میں آئی ہے، جبکہ باکو میڈیا سینٹر کی سربراہ ارزو علییوا فلم کی ایگزیکٹو پروڈیوسر ہیں۔
تقریب میں آذربائیجان کے وفد کے علاوہ ہولی سی کے اعلیٰ حکام، مختلف ممالک کے سفارتی مشنز کے سربراہان، ممتاز مذہبی رہنماؤں اور مختلف مذہبی برادریوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تقریب کے آغاز میں آذربائیجان کے مذہبی اور ثقافتی ورثے اور صدیوں پر محیط کثیرالثقافتی اقدار کو اجاگر کرنے والی ایک نمائش بھی پیش کی گئی۔
ہولی سی میں آذربائیجان کے سفیر ایلگار مختاروف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فلم کی تیاری میں شریک تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دستاویزی فلم ’’ہارمنی‘‘ اس امر پر غور کی دعوت دیتی ہے کہ تنوع کس طرح ہمارے نقطہ نظر کو وسعت دیتا اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلم مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی تین نوجوان خواتین کی کہانی بیان کرتی ہے، جن کا مشترکہ وطن آذربائیجان ہے۔
سفیر نے کہا کہ اسلام، عیسائیت اور یہودیت آذربائیجانی معاشرے میں گہری تاریخی جڑیں رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں موجود مساجد، گرجا گھر اور یہودی عبادت گاہیں محض تاریخی عمارات نہیں بلکہ ہم آہنگی کی زندہ روایت کے اہم ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ورثہ مذہبی آزادی، روحانی ورثے کے تحفظ اور کثیرالثقافتی مکالمے کے فروغ پر مبنی ریاستی پالیسیوں کے ذریعے محفوظ اور فروغ پا رہا ہے۔
ہولی سی کی ڈکاسٹری فار انٹر ریلیجس ڈائیلاگ کے اسلامی امور کے دفتر کے سربراہ فادر لوراں باسانے نے ڈکاسٹری کے پریفیکٹ کارڈینل جارج جیکب کوواکاڈ کا پیغام پڑھ کر سنایا۔
اپنے پیغام میں کارڈینل نے کہا کہ دستاویزی فلم ’’ہارمنی‘‘ آذربائیجان میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی روایت کو کثیرالثقافتیت اور باہمی احترام کے پس منظر میں اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلم کا عنوان خود ایک اہم پیغام دیتا ہے کہ ہم آہنگی کے لیے اختلافات کو مٹانا ضروری نہیں بلکہ باہمی احترام، مکالمے اور اخوت کے جذبے کے تحت تنوع کو قبول کرنا ضروری ہے۔
آذربائیجان کی ریاستی کمیٹی برائے مذہبی انجمنوں کے چیئرمین رامین محمدوف نے کہا کہ مشرق اور مغرب کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث آذربائیجانی عوام نے صدیوں کے دوران فطری طور پر کثیرالثقافتی، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کی ثقافت کو فروغ دیا اور اس ورثے کو نسل در نسل منتقل کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج آذربائیجان کے ہر حصے میں مختلف مذاہب اور نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد امن و ہم آہنگی کے ساتھ مل جل کر رہ رہے، کام کر رہے اور اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہے ہیں۔
دستاویزی فلم ’’ہارمنی‘‘ کو مختلف بین الاقوامی فلمی میلوں اور سنیما پلیٹ فارمز پر بھی پیش کیا جا رہا ہے۔
تقریب کا اختتام دستاویزی فلم ’’ہارمنی‘‘ کی خصوصی نمائش کے ساتھ ہوا۔