
مراکش کی تاریخ میں پہلی خاتون فاطمہ الزہرا المنصوری نے سربراہ حکومت کا منصب سنبھال لیا
مراکش، یورپ ٹوڈے: فاطمہ الزہرا المنصوری نے ہفتے کے روز رباط میں سربراہ حکومت کے دفتر میں منعقدہ تقریب کے دوران اپنے پیش رو عزیز اخنوش سے عہدے کی ذمہ داریاں باضابطہ طور پر سنبھال لیں۔ اس طرح وہ مراکش کی تاریخ میں حکومت کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔
اقتدار کی منتقلی کی یہ تقریب مراکش کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ یہ پیش رفت شاہ محمد ششم کی جانب سے جمعہ کو المنصوری کی تجویز پر نئی حکومت کے ارکان کی تقرری کے ایک روز بعد سامنے آئی۔
اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری بیان میں فاطمہ الزہرا المنصوری نے کہا کہ ذمہ داریوں کی منتقلی انتظامی روایات کے تسلسل اور عوامی خدمت کے عمل کو برقرار رکھنے کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے قومی مفاد میں سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے لگن، عزم اور بے لوث خدمت کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات کے دوران المنصوری اور عزیز اخنوش نے اہم تزویراتی امور اور جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنماؤں نے شاہی ہدایات پر عمل درآمد، سماجی پروگراموں کے فروغ، اقتصادی ترقی اور انتظامی کارکردگی میں بہتری کے لیے حکومتی سرگرمیوں کی رفتار برقرار رکھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کی ذمہ داریوں کی منتقلی مربوط اور ذمہ دارانہ انداز میں مکمل کی جائے گی تاکہ مختلف شعبوں میں مراکش کی ترقیاتی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کیا جا سکے۔
فاطمہ الزہرا المنصوری کو ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد 29 ستمبر کو سربراہ حکومت نامزد کیا گیا تھا۔ ان انتخابات میں ان کی جماعت، آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی (پی اے ایم) نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں۔ بعد ازاں پی اے ایم نے استقلال پارٹی، سوشلسٹ یونین آف پاپولر فورسز (یو ایس ایف پی) اور پارٹی آف پروگریس اینڈ سوشلزم (پی پی ایس) کے ساتھ مل کر حکومتی اتحاد تشکیل دیا۔ چاروں جماعتوں کو پارلیمان کی مجموعی 395 نشستوں میں سے 210 نشستیں حاصل ہیں۔
مراکش کی نئی کابینہ 32 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں سات خواتین شامل ہیں۔ سابقہ 31 رکنی حکومت کے 14 ارکان کو نئی کابینہ میں بھی برقرار رکھا گیا ہے، جن میں فاطمہ الزہرا المنصوری، وزیر خارجہ ناصر بوریطہ اور وزیر داخلہ عبدالوافی لفتیت شامل ہیں۔
وزیر مملکت برائے بجٹ کے طور پر خدمات انجام دینے والے اور رائل مراکشی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ فوزی لقجع کو ترقی دے کر وزیر اقتصادیات، مالیات اور عوامی کارکردگی مقرر کیا گیا ہے۔
جمعہ کو شاہ محمد ششم سے ملاقات کے بعد المنصوری نے اعتماد ظاہر کیا تھا کہ نئی حکومت ایک جامع اور پرعزم پروگرام پر عمل درآمد کرتے ہوئے شہریوں کی توقعات پر پورا اترے گی۔
ستمبر کے پارلیمانی انتخابات میں گزشتہ تقریباً دو دہائیوں کے دوران ووٹرز کی سب سے کم شرحِ شرکت ریکارڈ کی گئی۔ انتخابی عمل کے دوران مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی عدم مساوات سے متعلق عوامی خدشات نمایاں رہے۔ توقع ہے کہ نئی حکومت ان مسائل کے حل کو ترجیح دے گی، جبکہ اسپین اور پرتگال کے ساتھ مل کر 2030 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کی تیاریوں پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔
فاطمہ الزہرا المنصوری 3 جنوری 1976 کو مراکش کے شہر مراکش میں پیدا ہوئیں۔ وہ 2021 سے 2026 تک قومی علاقائی منصوبہ بندی، شہری منصوبہ بندی، رہائش اور شہری پالیسی کی وزیر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔ انہوں نے امریکا کی پیس یونیورسٹی سے اینگلو سیکسن قانون میں سرٹیفکیٹ، فرانس کی مونٹ پیلیئر یونیورسٹی سے کاروباری معاہدوں کے قانون میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ اور رباط کی محمد پنجم یونیورسٹی سے نجی قانون میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ وہ مارچ 2005 سے مراکش بار ایسوسی ایشن سے وابستہ ہو کر وکالت کر رہی ہیں۔
المنصوری نے 2007 میں موومنٹ آف آل ڈیموکریٹس کی رکن کی حیثیت سے سیاست میں قدم رکھا اور 2008 میں پی اے ایم کی بانی ارکان میں شامل ہوئیں۔ وہ 2009 سے 2015 تک مراکش شہر کی میونسپل کونسل کی صدر رہیں اور 2011 سے 2016 تک پارلیمان کی رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں انہوں نے 2015 سے 2024 تک پی اے ایم کی قومی کونسل کی سربراہی کی اور 2016 سے 2021 کے دوران دوبارہ پارلیمان کی رکن رہیں۔
2021 سے وہ مراکش شہر کی میونسپل کونسل کی سربراہ ہیں، جبکہ 2024 سے پی اے ایم کی اجتماعی قیادت کی رابطہ کار کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔
سال 2014 میں معروف امریکی جریدے فوربز نے فاطمہ الزہرا المنصوری کو افریقہ کی 20 بااثر نوجوان خواتین میں شامل کیا تھا۔ اسی سال انہیں ینگ گلوبل لیڈر کا اعزاز بھی دیا گیا۔