
گرین ٹرانزیشن سے انڈونیشیا کے افرادی قوت کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے
سوراکارتا، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے وزیر برائے افرادی قوت یاسیرلی نے کہا ہے کہ ملک میں ماحول دوست اور پائیدار معیشت کی جانب منتقلی کے ساتھ ہنرمند افرادی قوت کی تیاری ناگزیر ہے، کیونکہ گرین جابز کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال اور نئی و قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے ساتھ گرین کالر ورکرز کی طلب میں بھی اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق تکنیکی ترقی کے ساتھ ایسے کارکنوں کی تیاری ضروری ہے جن کی مہارتیں صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔
یاسیرلی نے بتایا کہ انڈونیشیا نے 2029 تک گرین جابز کے لیے 50 لاکھ سے زائد کارکن تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ افرادی قوت نئی ٹیکنالوجیز کو چلانے، برقرار رکھنے اور مزید ترقی دینے کے لیے مطلوبہ صلاحیت رکھتی ہو۔
وزیر افرادی قوت کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں اور گرین انرجی کی جانب منتقلی کے لیے مخصوص شعبوں میں تربیت یافتہ انسانی وسائل کی ضرورت ہوگی، جن میں گاڑیوں کی انجینئرنگ، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر، شمسی توانائی کی تنصیب، صنعتی و تنصیبات کی دیکھ بھال اور پیشہ ورانہ صحت و سلامتی شامل ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ گرین ٹرانزیشن کے لیے ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ سب سے اہم عنصر باصلاحیت اور اہل افرادی قوت ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے پیشہ ورانہ تربیت اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے پر زور دیا۔
یاسیرلی نے صنعتوں پر زور دیا کہ وہ پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کے نصاب کی تیاری، تربیتی انفراسٹرکچر، مہارتوں کی تصدیق اور تربیت مکمل کرنے والے افراد کو روزگار کی فراہمی میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کی حکمت عملی میں کارکنوں کی تربیت، ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تصدیق اور انہیں روزگار حاصل کرنے یا اپنا کاروبار شروع کرنے میں معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔
وزیر افرادی قوت نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ رواں سال گرین جابز کے لیے 2.7 لاکھ کارکنوں کو تربیت دینے کے لیے 1.7 ٹریلین انڈونیشین روپیہ، جو تقریباً 96 کروڑ امریکی ڈالر کے برابر ہے، مختص کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد انسانی وسائل کی ترقی کے ذریعے ملک کی گرین صنعتوں کی جانب منتقلی کو تقویت دینا ہے۔