انڈونیشیا

انڈونیشیا کا اقوام متحدہ کے امن مشنز اور پائیدار ترقی کے پروگراموں میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

Read Time:2 Minute, 44 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے وزیر خارجہ اَرماناتھا ناصر نے منگل کے روز کہا ہے کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کے پروگراموں، بشمول امن مشنز اور پائیدار ترقی کے اقدامات میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے عالمی چیلنجز میں اضافے کے تناظر میں کثیرالجہتی تعاون کے لیے انڈونیشیا کے عزم کا اعادہ کیا۔

جکارتہ میں اقوام متحدہ کے دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے ساتھ انڈونیشیا کی دیرینہ شراکت داری اور عالمی امن، سلامتی اور ترقی کے لیے اس کی مسلسل حمایت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ انڈونیشیا نے آزادی حاصل کرنے کے ایک دہائی سے کچھ زائد عرصے بعد، 1957 میں پہلی مرتبہ امن مشن کے لیے اپنے اہلکار تعینات کیے تھے۔ انہوں نے سمندری قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن (UNCLOS) کے قیام اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے تحت اقدامات میں انڈونیشیا کے کردار کو بھی نمایاں کیا۔

ناصر نے زور دیا کہ عالمی برادری کو درپیش پیچیدہ چیلنجز کے پیش نظر انڈونیشیا کی یہ خدمات بدستور اہم ہیں اور انہیں جاری رہنا چاہیے۔

انڈونیشیا اور اقوام متحدہ کے تعلقات 1945 سے قائم ہیں، جب دونوں وجود میں آئے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران انڈونیشیا نے ان خطوں میں امن مشنز کے لیے اہلکار تعینات کیے جہاں امن کی صورتحال نازک اور عدم استحکام کے خدشات موجود تھے۔

وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے انڈونیشیا کی چار مدتوں، انسانی حقوق کے فروغ کے لیے اس کی کوششوں اور اقوام متحدہ کے بورڈ آف آڈیٹرز کے ذریعے ادارے میں شفافیت اور احتساب کی حمایت کو بھی اجاگر کیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ اور وسیع تر کثیرالجہتی نظام میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی اداروں کو بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات اور تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

ناصر نے کہا کہ آج دنیا کو درپیش چیلنجز ان مسائل سے نمایاں طور پر مختلف ہیں جن کا عالمی برادری کو 1945 میں اقوام متحدہ کے قیام کے وقت سامنا تھا۔ ان کے مطابق، اقوام متحدہ کو بین الاقوامی اصول و ضوابط وضع کرنے سے آگے بڑھتے ہوئے عالمی مسائل کے عملی حل فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’’2045 تک اقوام متحدہ کو صرف اصول و ضوابط کے سہارے آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ مستقبل کے اقوام متحدہ کو نہ صرف قواعد مرتب کرنے بلکہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھنی چاہیے۔‘‘

دریں اثنا، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گزشتہ ہفتے جکارتہ کے دورے کے دوران کثیرالجہتی تعاون اور اقوام متحدہ کی حمایت پر انڈونیشیا کو سراہا۔

جکارتہ میں اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، گوتریس نے بین الاقوامی تعاون کے لیے انڈونیشیا کے عزم کو سراہتے ہوئے بالخصوص امن مشنز میں اس کی خدمات کو قابلِ قدر قرار دیا۔

انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے جدید مالیاتی ذرائع کو فروغ دینے اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات میں انڈونیشیا کی قیادت کی بھی تعریف کی۔

انڈونیشیا کی جانب سے یہ عزم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ عالمی تعاون کو مضبوط بنانے، نئے ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے اور دنیا بھر میں پائیدار ترقی اور امن کے فروغ کے لیے اصلاحات پر کام کر رہا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر وزیراعظم شہباز شریف کا اظہارِ افسوس
ویتنام Next post ویتنام اور پولینڈ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام پر اتفاق