انڈونیشیا

انڈونیشیا کا 2029 تک مینوفیکچرنگ شعبے میں افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت میں 18.7 فیصد اضافے کا ہدف

Read Time:2 Minute, 32 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی وزارتِ صنعت نے قومی مسابقتی صلاحیت میں اضافے کے لیے 2029 تک مینوفیکچرنگ شعبے میں افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت میں 18.7 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت فی کارکن پیداواری صلاحیت کو 2025 میں 12 کروڑ 43 لاکھ 50 ہزار انڈونیشین روپیہ (6,947 امریکی ڈالر) سے بڑھا کر 2029 تک 14 کروڑ 77 لاکھ انڈونیشین روپیہ (8,251 امریکی ڈالر) تک پہنچایا جائے گا۔

وزیرِ صنعت محمد سرموجی نے پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اس ہدف کا حصول انسانی وسائل کی جامع ترقی سے مشروط ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی صنعت کی ترقی کے لیے صرف سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ ایسی افرادی قوت بھی ضروری ہے جو تربیت یافتہ، حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے فنی تعلیم اور تربیتی پروگراموں کو صنعتی شعبے کی ضروریات سے براہِ راست منسلک کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان اشتراک اور دوہری تعلیمی نظام اس بات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ فارغ التحصیل طلبہ جدید ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کی ضروریات کے مطابق مہارتوں سے لیس ہوں۔

وزیرِ صنعت نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، خودکار نظام، ڈیٹا اینالیٹکس اور سائبر سکیورٹی سمیت تیزی سے تبدیل ہوتی ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے مطابق کارکنوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تربیت یافتہ صنعتی افرادی قوت سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا، جس سے قومی مینوفیکچرنگ صنعت کی عالمی مسابقتی حیثیت مزید مستحکم ہوگی۔

وزارتِ صنعت کے ادارے برائے صنعتی انسانی وسائل کی ترقی (بی پی ایس ڈی ایم آئی) کے تحت 13 پیشہ ورانہ اعلیٰ تعلیمی اداروں، نو پیشہ ورانہ ہائی اسکولوں اور سات صنعتی تربیتی مراکز میں فنی تعلیم اور تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔

ادارے کے قائم مقام سربراہ ایڈی روچمانتو پانڈیانگ نے بتایا کہ تربیتی پروگرام صنعتی شعبے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے جاتے ہیں، جن میں نصاب، اساتذہ کی صلاحیتوں، بنیادی سہولیات اور صنعتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو بہتر بنانے پر توجہ دی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فنی تعلیم کے اداروں میں داخلوں کے لیے طلبہ کی دلچسپی نمایاں ہے۔ 30 جون تک اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 4,566 نشستوں کے لیے 61,744 درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ پیشہ ورانہ ہائی اسکولوں میں 2,749 نشستوں کے لیے 33,592 درخواستیں جمع کرائی گئیں۔

ایڈی روچمانتو پانڈیانگ کے مطابق درخواستوں کی بڑی تعداد صنعتی شعبے کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے، تاہم تعلیمی اور تربیتی معیار کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت برقرار ہے۔

ادارے کے 2029 تک کے وسط مدتی لائحہ عمل کے تحت صنعتی افرادی قوت کے 89 فیصد حصے کو مطلوبہ مہارتوں کا حامل بنانے اور فنی تعلیم حاصل کرنے والے فارغ التحصیل افراد کی شرحِ روزگار 88 فیصد تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
زرداری Previous post صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری پر دستخط کر دیے
مراکش Next post مراکش اور افریقی ممالک میں جدید سرحدی سکیورٹی نظام متعارف کرانے کے لیے کینیڈین کمپنیوں میں شراکت داری