پرابوو

صدر پرابوو سبیانتو کے دورِ حکومت کے پہلے دو سال میں انڈونیشیا کی مقامی سرمایہ کاری 2,000 ٹریلین روپیہ کے قریب پہنچ گئی

Read Time:2 Minute, 54 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا میں صدر پرابوو سبیانتو کے دورِ حکومت کے ابتدائی دو برسوں کے دوران مقامی سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 2,000 ٹریلین انڈونیشین روپیہ تک پہنچ گیا ہے، جو ملکی کاروباری طبقے کے اعتماد اور حکومت کی معاشی ترقی کی ترجیحات پر ان کے مثبت ردعمل کا عکاس ہے۔

صدارتی سیکریٹریٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ اعداد و شمار انڈونیشین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کادِن) کے چیئرمین انندیا باکری نے مغربی جاوا کے ضلع بوگور کے علاقے ہمبالانگ میں منعقدہ صدارتی بریفنگ کے دوران پیش کیے۔

انندیا باکری نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاری میں مختلف شعبوں اور مختلف سطحوں پر کام کرنے والے کاروباری اداروں، بشمول درمیانے درجے کے کاروباروں نے حصہ لیا ہے، جس سے انڈونیشیا کی قومی معیشت کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملی ہے۔

انہوں نے مقامی سرمایہ کاری کو قومی ترقی میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کی ایک اہم بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری اداروں کے پاس ملک کی معاشی ترقی میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

ان کے مطابق انڈونیشیا کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) تقریباً 25,000 ٹریلین روپیہ ہے، جبکہ قومی بجٹ کا حجم تقریباً 4,000 ٹریلین روپیہ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ معیشت کی باقی 85 فیصد سرگرمیاں نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے کے بڑے مواقع فراہم کرتی ہیں۔

کادِن کے چیئرمین نے نئے ابھرتے ہوئے صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے ساتھ روایتی اور مستحکم صنعتی شعبوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

انہوں نے مستقبل میں سرمایہ کاری کے لیے الیکٹرک گاڑیوں (ای وی)، قابل تجدید توانائی اور ڈیٹا سینٹرز کو اہم اور امید افزا شعبے قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے مقامی طور پر تیار کردہ پرزہ جات کے استعمال میں اضافہ اور ملکی صنعتی صلاحیت کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

انندیا باکری نے یہ باتیں کادِن کے قومی قیادت اجلاس کے موقع پر کہیں، جس کا عنوان ’’عوام پر مرکوز معیشت اور انڈونیشیا کی عالمی سطح پر پیش رفت‘‘ تھا۔ اجلاس میں کاروباری شعبے کی ترجیحات اور مستقبل کی معاشی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کے باوجود انڈونیشیا کی معاشی بنیادوں کو مضبوط اور مستحکم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک دنیا کے پرکشش معاشی اور سرمایہ کاری کے مراکز میں اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پہلے سامنے آنے والے جائزے کا بھی حوالہ دیا۔

کادِن کے چیئرمین نے علاقائی کاروباری شخصیات اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ وہ اپنی کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دے سکیں، مسابقتی صلاحیت بہتر بنا سکیں اور کاروباری ویلیو چین میں اعلیٰ مقام حاصل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاری میں اضافے سے نہ صرف قومی معاشی ترقی کی رفتار تیز ہوگی بلکہ مقامی کاروباری اداروں کو ترقی کرنے اور مستقبل میں بڑے معاشی کردار کے حامل اداروں کے طور پر ابھرنے کے وسیع مواقع بھی میسر آئیں گے۔

یہ پیش رفت صدر پرابوو سبیانتو کی قیادت میں انڈونیشیا کی حکومت کی جانب سے مقامی سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی شعبوں میں تنوع پیدا کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ویتنام Previous post ویتنام میں پیٹرول پر خصوصی کھپت ٹیکس صفر فیصد کر دیا گیا، قیمتوں میں فی لیٹر 1,800 ڈونگ سے زائد کمی
دیمترییف Next post دیمترییف کی زیلنسکی پر تنقید، امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کا الزام