اسحاق ڈار

علاقائی روابط، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں سرمایہ کاری شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے، اسحاق ڈار

Read Time:3 Minute, 32 Second

دوشنبے، یورپ ٹوڈے: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے علاقائی روابط کو وسعت دیں، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کریں اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں۔

منگل کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ایس سی او کے سربراہانِ حکومت کی کونسل کے 25ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے تنظیم کے اصولوں، باہمی اعتماد، تنوع کے احترام اور علاقائی تعاون، جنہیں اجتماعی طور پر ’’شنگھائی اسپرٹ‘‘ کہا جاتا ہے، کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے تاجکستان کے وزیراعظم قاہر رسول زادہ، حکومت اور عوام کا پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ اسحاق ڈار نے ایس سی او میں پاکستان کے فعال کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 2024 میں اسلام آباد میں سربراہانِ حکومت کی کونسل کے اجلاس کی میزبانی کی، جبکہ رواں سال ایس سی او کے انسدادِ دہشت گردی کے ڈھانچے کی صدارت بھی مکمل کی۔

نائب وزیراعظم نے غربت میں کمی سے متعلق ایس سی او کے ورکنگ گروپ کی قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان غربت کے خاتمے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے کردار کو اجاگر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہوں نے اقتصادی انضمام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی معیشتوں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کے لیے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں ہدفی سرمایہ کاری ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے زراعت، کان کنی، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری بڑھائی جانی چاہیے۔

اسحاق ڈار نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ایس سی او کے تمام شراکت داروں کے لیے ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے علاقائی اقتصادی انضمام کو تیز کیا جا سکتا ہے اور رکن ممالک اس عمل میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، جدت، توانائی کے شعبے میں تعاون اور بین الاقوامی معلوماتی سلامتی کو ایس سی او کے مستقبل کے تعاون کے اہم ستون بنایا جانا چاہیے۔

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی ایس سی او صدارت کے لیے ’’تصور سے عملی اقدامات تک: روابط، جدت اور مشترکہ خوشحالی‘‘ کے عنوان سے وژن پیش کیا ہے۔

اس وژن میں پانچ ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں امن، سلامتی اور باہمی اعتماد؛ علاقائی روابط اور تجارت؛ جدت، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی؛ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور پائیدار توانائی؛ جبکہ عوامی سطح پر تبادلوں کا فروغ شامل ہیں۔

محمد اسحاق ڈار نے رکن ممالک کے درمیان باہمی لین دین میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو تیز کرنے اور ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک، ترقیاتی فنڈ اور سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت اور رکن ممالک کو عالمی مالیاتی بحرانوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے تحفظ پسند پالیسیوں اور یکطرفہ جابرانہ اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کو کمزور کرتے، تکنیکی ترقی کو محدود کرتے اور عدم مساوات میں اضافہ کرتے ہیں۔ انہوں نے منصفانہ ترقی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی مالیاتی اور تجارتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

علاقائی سلامتی کے حوالے سے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے دیرپا امن اور استحکام ناگزیر ہے، خصوصاً افغانستان میں امن کا قیام پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، جو علاقائی معیشتوں کے ساتھ مربوط ہو۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغان طالبان حکام سے توقع ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر علاقائی استحکام، مضبوط اقتصادی شراکت داری اور ایس سی او کے ذریعے یوریشیا میں روابط، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
پاکستان Previous post عرفات منہاس کی تباہ کن بولنگ، پاکستان نے انگلینڈ کو 87 رنز سے شکست دے دی