
اٹلی میں طلبہ کی تعداد میں کمی، حکومت کا تقریباً 7 ہزار تدریسی و معاون ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہ
روم، یورپ ٹوڈے اردو: اٹلی کی حکومت نے طلبہ کی تیزی سے کم ہوتی ہوئی تعداد کے باعث تعلیمی اداروں میں تقریباً 7 ہزار تدریسی اور اسکول معاون ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس پر اساتذہ اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
2027 کے بجٹ میں ملازمتوں میں کٹوتی شامل
خبر رساں ادارے روئٹرز کی 6 نومبر کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم جارجیا میلونی کی حکومت نے عملے میں کٹوتی کا یہ منصوبہ 2027 کے مسودۂ بجٹ میں شامل کیا ہے، جسے حال ہی میں کابینہ نے منظور کیا ہے۔
منصوبے کے تحت تعلیمی سال 2027-2028 سے 4 ہزار 925 تدریسی آسامیاں اور 2 ہزار 49 انتظامی، تکنیکی اور اسکول معاون آسامیاں ختم کی جائیں گی، جن کی مجموعی تعداد 6 ہزار 974 بنتی ہے۔
سات برسوں میں طلبہ کی تعداد میں 7 لاکھ کی کمی
حکومت کے اس اقدام کی بنیادی وجہ اٹلی کی آبادی میں نمایاں کمی ہے۔ اٹلی یورپ میں سب سے کم شرحِ پیدائش والے ممالک میں شامل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں داخلوں کی تعداد تعلیمی سال 2017-2018 میں 84 لاکھ تھی، جو 2024-2025 میں کم ہو کر 77 لاکھ رہ گئی، یعنی سات برسوں میں طلبہ کی تعداد میں تقریباً 7 لاکھ کی کمی واقع ہوئی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اسکولوں میں عملے کی تعداد کو داخلوں میں کمی کے مطابق ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔
تین تعلیمی برسوں میں 14 ہزار سے زائد ملازمتیں ختم ہوں گی
یہ اس نوعیت کا پہلا اقدام نہیں ہے۔ 2025 کے بجٹ کے تحت بھی حکومت نے 5 ہزار 660 تدریسی اور 2 ہزار 174 معاون آسامیاں ختم کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ تازہ تجویز کو ملا کر تین تعلیمی برسوں کے دوران اسکولوں کی مجموعی طور پر 14 ہزار 808 ملازمتیں ختم ہو جائیں گی، جن میں 10 ہزار 585 تدریسی اور 4 ہزار 223 معاون آسامیاں شامل ہیں۔
336 ملین یورو کی بچت کا تخمینہ
حکومتی اندازوں کے مطابق ان کٹوتیوں سے 2027 میں تقریباً 83.9 ملین یورو اور 2028 میں تقریباً 251.7 ملین یورو کی بچت ہو گی، یوں دو برسوں میں مجموعی بچت تقریباً 336 ملین یورو بنے گی۔
اسکولوں کے عملے میں کٹوتی کے علاوہ بجٹ میں ایک اور اقدام بھی شامل ہے، جس کے تحت پبلک سیکٹر کے بعض شعبوں میں ریٹائر ہونے والے ملازمین کی جگہ نئی بھرتیوں کو ریٹائر ہونے والوں کی تعداد کے 75 فیصد تک محدود کر دیا جائے گا۔