پاکستان

پاکستانی مسلح افواج بھارت کی کسی بھی کارروائی کا جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

Read Time:3 Minute, 7 Second

راولپنڈی، یورپ ٹوڈے: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، جبکہ پاک فوج بھارت کی جانب سے کسی بھی اقدام کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ سکیورٹی سے متعلق ’’ڈرامے‘‘ کی صورت میں جواب دینے کے لیے تیار ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے ایسا کوئی بھی اقدام سامنے آنے کی صورت میں اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ریٹائرڈ اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے حوالدار محمد آصف کو بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ یہ پیش رفت بھارتی حکام کے اس دعوے کے بعد ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے ایک سینئر کمانڈر، جس کی شناخت آصف عرف موسیٰ کے نام سے کی گئی، کو 29 ستمبر کو بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر کے علاقے کوراگ میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس شناخت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکام کی جانب سے کارروائی میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسند کے طور پر پیش کیا جانے والا شخص دراصل زندہ پاکستانی شہری اور پاک فوج کا سابق اہلکار ہے۔

میڈیا کے سامنے موجود محمد آصف نے بتایا کہ وہ اپنے گھر پر موجود تھے جب انہیں ٹیلی فون کالز اور میڈیا رپورٹس کے ذریعے معلوم ہوا کہ بھارتی فوج کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر ہلاک قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی مبینہ ہلاکت کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد انہیں متعدد فون کالز موصول ہونا شروع ہوئیں اور بتایا گیا کہ بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کارروائی میں مارے گئے ہیں۔

محمد آصف نے اپنی فوجی سروس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2000 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور 2005 میں اسپیشل سروسز گروپ کا حصہ بنے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 18 سال تک ایس ایس جی میں خدمات انجام دینے کے بعد 2023 میں فوج سے ریٹائر ہوئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے تین سال تک ایک نجی سکیورٹی کمپنی میں کام کیا اور گزشتہ تین سے چار ماہ سے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ راولپنڈی میں واقع اپنے گھر میں مقیم ہیں۔

آصف نے اپنے خلاف عائد الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاک فوج میں اپنی ذمہ داریاں بہادری اور لگن کے ساتھ انجام دیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارتی حکام اور بعض بھارتی میڈیا اداروں نے آصف عرف موسیٰ کو دہشت گرد کے طور پر پیش کیا اور مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں کو ان سے منسوب کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ کارروائی کے دوران موسیٰ کے تین ساتھی ہلاک ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ بھارت اس سے قبل بھی پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ایسے اقدامات کر چکا ہے جنہیں پاکستان ’’فالس فلیگ آپریشنز‘‘ قرار دیتا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی علاقائی خودمختاری، جغرافیائی سرحدوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
یوکرین Previous post یوکرین تنازع پر روسی سفیر البرٹ پی خورِیف کی بریفنگ، ماسکو کا سیاسی و سفارتی حل کے عزم کا اعادہ