چین

پاکستان اور چین کا اسٹریٹجک تعاون مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ، وزیراعظم شہباز شریف

Read Time:5 Minute, 16 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور چین کے درمیان ہر آزمائش پر پورا اترنے والی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی باہمی اعتماد، غیر متزلزل حمایت اور عوام کے درمیان گہری وابستگی پر استوار ہے۔

وزیراعظم نے یہ بات عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ اور چینی عوام کو چین کے قومی دن کے موقع پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ چین کے یومِ تاسیس کی تقریبات پاکستانی عوام کے دلوں کے بہت قریب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین کی تاریخی ترقی اور عالمی امن، استحکام اور ترقی میں اس کا بڑھتا ہوا کردار دنیا بھر کے ممالک، بالخصوص پاکستان، کے لیے باعثِ تحریک ہے۔

وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کے بنیادی ستون قرار دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں کے دوران باہمی اعتماد، باہمی حمایت اور دونوں اقوام کے درمیان قریبی روابط پر مبنی خصوصی تعلق میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چین کے ساتھ اپنی ’’آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘‘ پر بے حد فخر ہے اور دونوں ممالک کی ’’آہنی دوستی‘‘ نے وقت کی ہر آزمائش کا مقابلہ کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی اور ایک زیادہ خوشحال مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کا مضبوط مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین اب سی پیک کے اگلے مرحلے، یعنی ’’سی پیک 2.0‘‘ کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس میں صنعت کاری، خصوصی اقتصادی زونز، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، زراعت اور کان کنی و معدنیات کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

وزیراعظم نے بالخصوص زرعی تعاون میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ایک ہزار زرعی گریجویٹس کا پہلا گروپ چین میں اپنی تربیت مکمل کر چکا ہے جبکہ مزید ایک ہزار گریجویٹس چین جانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو پاکستانی نوجوانوں کی مہارتوں اور مستقبل میں ایک اہم سرمایہ کاری قرار دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ’’لنگر‘‘ ہیں اور مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والی قیادت نے ان تعلقات کو پروان چڑھایا ہے۔

انہوں نے مئی میں بیجنگ میں صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گرمجوشی اور مفید تبادلہ خیال نے دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کی پائیداری کی ایک بار پھر تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر مکمل عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان چین کے ساتھ مل کر نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے حامل پاکستان چین کمیونٹی کے قیام کی جانب مسلسل آگے بڑھتا رہے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے پاکستان اور چین کو ’’ہر آزمائش پر پورا اترنے والے تزویراتی تعاون کے شراکت دار اور آہنی بھائی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معیشت میں بڑھتی ہوئی مضبوطی اور توانائی کا خیرمقدم کیا۔

چینی سفیر نے کہا کہ رواں سال پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 سال کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک ایسے دوست ہیں جو مشکل اور مشکل ترین حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔

سفیر نے عملی اقتصادی تعاون میں ہونے والی توسیع کو بھی اجاگر کیا اور بتایا کہ جنوری سے جولائی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت 16.44 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو سال بہ سال 13.4 فیصد اضافہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوری سے اگست کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تجارت تقریباً 830 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہے۔

چینی سفیر نے بتایا کہ ہانگ کانگ سمیت پاکستان میں مجموعی طور پر آنے والی غیر ملکی سرمایہ کاری میں 60.7 فیصد حصے کے ساتھ چین بدستور پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ صنعت، زراعت اور کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے اور سی پیک 2.0 کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے ساتھ ساتھ چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے مزید بہتر ورژن کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے بلوچستان میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا، جن میں 100 صاف پانی کے مراکز کی تعمیر، ایک ہزار اسمارٹ کلاس رومز کی اپ گریڈیشن اور ایک لاکھ اسکول کٹس کی فراہمی شامل ہے۔

چینی سفیر نے کہا کہ چین صحت، تعلیم، ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون مزید مضبوط کرے گا، جبکہ جامعات، تھنک ٹینکس، نوجوانوں اور خواتین کے درمیان تبادلوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ دفاع، سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرے گا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر قریبی رابطہ کاری برقرار رکھتے ہوئے گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

تقریب کے اختتام پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ کے ہمراہ کیک کاٹا۔

تقریب میں وفاقی وزراء عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، مصدق مسعود ملک اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل، معاون خصوصی طارق فاطمی اور سفارتی برادری کے ارکان نے بھی شرکت کی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
اسحاق ڈار Previous post پاکستان کی ایس سی او صدارت باہمی اعتماد، تعاون اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر مرکوز ہے: اسحاق ڈار