
مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال سے غلط اندازوں اور جنگ کے پھیلاؤ کے خطرات بڑھ رہے ہیں، پاکستان کا اقوام متحدہ میں انتباہ
اقوام متحدہ، یورپ ٹوڈے: پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ مؤثر انسانی نگرانی اور کنٹرول کے بغیر کام کرنے والے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نظام فوجی سطح پر غلط اندازوں، طاقت کے استعمال اور تنازعات میں تیزی سے شدت آنے کے خطرات میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب ہشام احمد نے کہا کہ انسانی فیصلے اور مؤثر کنٹرول نہ ہونے کی صورت میں ایسے نظام غلط اندازوں اور کشیدگی میں اضافے کے خطرات بڑھاتے ہیں، طاقت کے استعمال کی حد کو کم کرتے ہیں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی کو کمزور بناتے ہیں۔
ہشام احمد جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفاتر کے لیے پاکستان کے مستقل مشن میں کونسلر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ مؤقف ایسے وقت میں پیش کیا جب جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے بدنیتی پر مبنی استعمال سے عالمی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت سے لیس اہداف کے تعین اور فوجی فیصلوں میں معاونت کرنے والے نظام اب مستقبل کا تصور نہیں رہے، بلکہ دنیا کے مختلف فعال تنازعات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔
انہوں نے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی قیادت میں جامع اور سب کو شامل کرنے والے ضابطہ جاتی فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ یہ ٹیکنالوجی فوجی ردعمل کے لیے دستیاب وقت کو خطرناک حد تک محدود نہ کر دے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ بالخصوص ان خطوں میں زیادہ سنگین ہے جہاں روایتی اور جوہری فوجی صلاحیتیں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
ہشام احمد نے کہا کہ ایسے خطوں میں خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں جہاں ایک جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست دوسری ریاست کے خلاف خودکار طور پر ہدف کے گرد منڈلانے والے ہتھیار اور ایسے میزائل استعمال کر رہی ہو جو روایتی اور جوہری دونوں نوعیت کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ ہمیشہ انسانی اختیار میں رہنا چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ روایتی اور جوہری فوجی صلاحیتوں کے گہرے امتزاج والے خطوں میں مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات کا جامع انداز میں جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی اور ضابطہ بندی اقوام متحدہ کے تحت ہونی چاہیے اور اس کے باہر شروع کیے جانے والے اقدامات عالمی ادارے کی قانونی حیثیت، شمولیت اور عالمگیریت کا متبادل نہیں بن سکتے۔
اجلاس سے قبل معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیش رفت اور ان کے ذمہ دارانہ ریاستی استعمال کے فروغ سے متعلق عالمی طریقۂ کار کی چیئرپرسن ایگریسلڈا لوپیز نے کہا کہ عالمی طریقۂ کار کا قیام اقوام متحدہ میں آئی سی ٹی سکیورٹی سے متعلق دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط بین الحکومتی مباحث کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی سے متعلق خطرات مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں اور تکنیکی ترقی کی سطح سے قطع نظر دنیا کے تمام خطوں میں ریاستوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
ایگریسلڈا لوپیز کے مطابق ان خطرات کے اثرات صرف ڈیجیٹل نظام تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ ضروری خدمات میں خلل ڈالنے، اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے اور عالمی امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کا سبب بھی بنتے ہیں۔
انہوں نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام ریاستوں کی مشترکہ توجہ اور شرکت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایک کھلے اور جامع فورم کی ضرورت ہے، جہاں تمام ممالک مؤثر انداز میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔