پارلیمانی

عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پارلیمانی سفارت کاری اور کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے، صاحبہ غفاروا

Read Time:1 Minute, 49 Second

باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کی قومی اسمبلی (ملی مجلس) کی اسپیکر صاحبہ غفاروا نے بدھ کے روز آسیان بین الپارلیمانی اسمبلی (AIPA) کے 17ویں کاکس اجلاس سے اپنے ورچوئل خطاب میں پیچیدہ عالمی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے پارلیمانی سفارت کاری اور کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

"پیچیدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں آسیان کی مرکزی حیثیت کو مضبوط بنانے میں پارلیمان کا کردار” کے عنوان سے منعقدہ اجلاس میں مختلف ممالک کے پارلیمانی نمائندوں نے علاقائی اور عالمی تعاون کے فروغ میں قانون ساز اداروں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔

اپنے خطاب میں صاحبہ غفاروا نے کہا کہ موجودہ دور کے عالمی مسائل کا کوئی بھی ملک تنہا مؤثر طور پر مقابلہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن، سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، غذائی تحفظ اور توانائی کے تحفظ جیسے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی سطح پر قریبی تعاون ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے بین الاقوامی قانون، مساوی مکالمے اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے اصولوں کے تحت مؤثر کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔

آسیان کے ساتھ آذربائیجان کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اسپیکر ملی مجلس نے کہا کہ آذربائیجان آسیان بین الپارلیمانی اسمبلی میں مبصر پارلیمان کی حیثیت سے اس علاقائی تنظیم کے ساتھ تعاون کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے آسیان کے رکن ممالک کے ساتھ مکالمے کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

صاحبہ غفاروا نے پارلیمانی سفارت کاری کو باہمی اعتماد کے فروغ، تعمیری مکالمے کے استحکام اور عالمی مسائل کے پُرامن حل کے لیے ایک مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون ساز ادارے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے آذربائیجان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک بین الاقوامی قانون، ریاستوں کی خودمختار برابری اور باہمی اعتماد پر مبنی مؤثر عالمی تعاون کے لیے پرعزم ہے اور علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا رہے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ترکمانستان Previous post ترکمانستان اور امریکہ کا دوطرفہ تعاون مزید وسعت دینے پر اتفاق، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی روابط مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
زرداری Next post صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کا بلوچستان میں 10 دہشت گردوں کی ہلاکت پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین