وفاقی وزیر پیٹرولیم

وفاقی وزیر پیٹرولیم کا نئے قیمتوں کے نظام کا دفاع، شفافیت اور عوامی ریلیف کا دعویٰ

Read Time:1 Minute, 52 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نئے روزانہ نظام سے شفافیت، مسابقت اور عوام کو بروقت ریلیف ملے گا، جبکہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر فوری طور پر مقامی صارفین تک منتقل ہو سکے۔ ان کے مطابق ماضی میں ہفتہ وار قیمتوں کے تعین کے باعث بعض عناصر مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع کماتے تھے، تاہم نئے نظام سے اس رجحان کا خاتمہ ہوگا۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت کا مقصد قیمتوں کے پورے نظام کو زیادہ شفاف بنانا ہے اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) قیمتوں کے تعین میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا سیاسی مداخلت کے بغیر قیمتوں کا تعین کرے گا، جس سے صارفین اور مارکیٹ دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت پیٹرولیم صنعت کے تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق مسابقتی ماحول پیدا ہونے سے لاگت میں کمی آئے گی اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کام کر رہی ہے، جبکہ سپلائی چین کی مؤثر نگرانی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور نظام میں مزید شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔ حکومت آئندہ ایک ماہ کے اندر توانائی کے شعبے سے متعلق ایک جامع پیکج بھی متعارف کرائے گی۔

علی پرویز ملک نے توانائی کے تحفظ کے حوالے سے کہا کہ پاکستان مقامی سطح پر تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی تلاش کے لیے اقدامات تیز کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سمیت بیرونی راستوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں مقامی کمپنیوں کو بھی متحرک کیا جا رہا ہے اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
دوشنبے Previous post دوشنبے میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے وزرائے صنعت کا چوتھا اجلاس 22 اور 23 ستمبر کو منعقد ہوگا
انگلینڈ Next post فیفا ورلڈ کپ: انگلینڈ نے 60 سال بعد تیسری پوزیشن حاصل کرلی، فرانس چوتھے نمبر پر رہا