تاجکستان

صدر امام علی رحمان کی زیر صدارت اجلاس، تاجکستان کے 2027 کے بجٹ اور قومی ترقیاتی پروگراموں کے مسودوں کا جائزہ

Read Time:3 Minute, 3 Second

دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کے صدر اور قائدِ ملت امام علی رحمان کی زیر صدارت 29 اکتوبر کو ایک حکومتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سال 2027 کے مجوزہ ریاستی بجٹ، معاشی ترجیحات اور متعدد قومی ترقیاتی پروگراموں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے آغاز میں جمہوریہ تاجکستان کے 2027 کے ریاستی بجٹ سے متعلق مجوزہ قانون اور 2028 اور 2029 کے لیے بجٹ کے تخمینی اشاریوں پر غور کیا گیا۔

قومی معیشت کی متوقع ترقی کی بنیاد پر مرتب کردہ تخمینوں کے مطابق، سال 2027 کے لیے ریاستی بجٹ کی آمدن تمام ذرائع سے 80.1 ارب سومونی مقرر کیے جانے کی تجویز ہے، جو 2026 کے منظور شدہ بجٹ کے مقابلے میں 15.1 ارب سومونی یا 23.2 فیصد زیادہ ہے۔

سال 2027 میں سماجی شعبوں کی مالی معاونت کے لیے مجموعی طور پر 36.7 ارب سومونی مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی، جو ریاستی بجٹ کے مجموعی اخراجات کا 44.8 فیصد بنتا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ریاستی بجٹ کی آمدن 2028 میں 90.2 ارب سومونی جبکہ 2029 میں 104.6 ارب سومونی تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔

اس موقع پر صدر امام علی رحمان نے متعلقہ وزارتوں اور سرکاری اداروں کو قومی پروگراموں اور ترقیاتی حکمت عملیوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے متعدد ہدایات جاری کیں۔

ان ہدایات میں ڈیجیٹلائزیشن اور الیکٹرانک ڈیٹا کے تبادلے کے عمل کو تیز کرنا، ٹیکس نیٹ ورک کو وسعت دینا، ٹیکس واجبات کی وصولی یقینی بنانا، ملکی پیداوار میں اضافہ اور درآمدی اشیا پر انحصار کم کرنا شامل ہے۔

صدر نے حکومت کو ہدایت کی کہ 2027 کے ریاستی بجٹ سے متعلق مجوزہ قانون کی منظوری کے بعد اسے غور و خوض اور منظوری کے لیے تاجکستان کی سپریم اسمبلی کے ایوانِ نمائندگان میں پیش کیا جائے۔

قومی ترقیاتی اور اصلاحاتی پروگراموں کا جائزہ

اجلاس میں تاجکستان کے 2027 کے ریاستی بیرونی قرضہ جاتی پروگرام اور 2028 اور 2029 کے لیے اس کے تخمینی اشاریوں پر بھی غور کیا گیا۔

اس کے علاوہ 2026 سے 2030 تک پولیس اصلاحات کے پروگرام، قومی شہری ہوابازی کے تحفظ کے پروگرام اور کرائیوسفیئر کے مطالعے اور تاجکستان کے گلیشیئرز کے تحفظ سے متعلق ریاستی پروگرام کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں 2024 سے 2028 تک آبپاشی کے زیرِ استعمال زرعی اراضی کی زرعی و آبی حالت بہتر بنانے کے پروگرام پر عملدرآمد کے ایکشن پلان کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں 2027 اور 2028 کے لیے مجوزہ اقدامات شامل تھے۔

تفصیلی غور و خوض کے بعد زیرِ بحث امور سے متعلق ضروری حکومتی فیصلے منظور کیے گئے۔

صدر امام علی رحمان نے متعلقہ سرکاری اداروں کے عہدیداروں کو سابقہ حکومتی ہدایات اور اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے مزید ذمہ داریاں بھی سونپیں۔

زرعی پیداوار کی بروقت کٹائی اور موسم سرما کی تیاریوں پر زور

اجلاس کے اختتام پر صدر امام علی رحمان نے وزارتوں، سرکاری اداروں اور علاقوں، شہروں اور اضلاع کی مقامی انتظامیہ کے سربراہان کی توجہ متعدد فوری ترجیحات کی جانب مبذول کرائی۔

انہوں نے زرعی پیداوار کی بروقت اور بغیر کسی نقصان کے کٹائی یقینی بنانے، مقامی منڈیوں میں ضروری اشیائے صرف کی وافر دستیابی برقرار رکھنے اور موسم سرما کے لیے ایندھن کے مناسب ذخائر تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر نے تاجکستان کی ریاستی آزادی کی 40ویں سالگرہ کی تقریبات کے پیش نظر ملک بھر میں تعمیراتی، ترقیاتی اور تزئین و آرائش کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت آنے والے برسوں میں معاشی ترقی، سماجی شعبوں کی مالی معاونت، ادارہ جاتی اصلاحات اور قومی ترجیحات پر مؤثر عملدرآمد کو اپنی پالیسیوں کا محور بنائے گی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
روس Previous post روس یوکرین میں عارضی جنگ بندی کے بجائے پائیدار امن کا خواہاں ہے، ترجمان کریملن
شہباز شریف Next post وزیراعظم شہباز شریف کی گلگت بلتستان میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے اور بروقت فنڈز کی فراہمی کی ہدایت