سوبیانتو

صدر پرابوو سوبیانتو کی جنگلاتی و زمینی آگ پر قابو پانے کے لیے کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت

Read Time:3 Minute, 19 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے ملک کے مختلف علاقوں میں جنگلات اور اراضی میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے سرگرم فوجی، پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے متعلقہ اداروں کو آگ بجھانے اور اس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سیاسی و سلامتی امور کے رابطہ کار وزیر دُودونگ عبدالرحمن نے بتایا کہ صدر نے پیر کو صدارتی محل جکارتہ میں منعقدہ ایک محدود اجلاس کے دوران آگ پر قابو پانے کے لیے کام کرنے والے اہلکاروں کی کاوشوں کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ صدر نے فوج، پولیس اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کی خدمات پر اظہارِ تشکر کیا، جو آگ پر قابو پانے کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صدر پرابوو صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ آگ کو جلد از جلد بجھانے کے لیے دستیاب وسائل اور صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لایا جائے۔ اجلاس میں ملک کے چھ صوبوں میں جاری امدادی اور فائر فائٹنگ آپریشنز کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا۔

وسطی کلیمنتان اور جنوبی سماٹرا اس وقت آگ سے متاثرہ اہم علاقوں میں شامل ہیں۔ وسطی کلیمنتان میں آگ نے تنجنگ پوتنگ نیشنل پارک کے اطراف کے علاقوں کو بھی متاثر کیا ہے، جو محفوظ جنگلی حیات کی اہم پناہ گاہ ہے۔

گھنے دھوئیں کے باعث فضائی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس سے طیاروں اور دیگر فضائی وسائل کی مؤثریت متاثر ہوئی ہے اور متاثرہ مقامات تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکام نے آگ کے مراکز تک پہنچنے کے لیے زمینی کارروائیوں پر انحصار بڑھا دیا ہے، بالخصوص ان علاقوں میں جہاں رسائی دشوار ہے۔

وزیر دُودونگ عبدالرحمن کے مطابق، دشوار گزار علاقوں میں آگ پر قابو پانے کے لیے زمینی سطح پر کارروائیاں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اہلکاروں کو مسلسل مصروفیت اور تھکن سے بچانے کے لیے ان کی ڈیوٹیاں تبدیل کی جا رہی ہیں تاکہ کارروائیوں کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔ اس سلسلے میں آرمی اسٹریٹجک ریزرو کمانڈ (کوسٹراڈ) کے دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ فوجی حکام متاثرہ علاقوں میں اہلکاروں کی باری باری تعیناتی کا انتظام کر رہے ہیں۔

آگ بجھانے کی ہنگامی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ حکومت نے جنگلاتی اور زمینی آگ کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ اس مقصد کے لیے فوج، پولیس، مقامی انتظامیہ اور مقامی آبادیوں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے لوگوں کو ایسی سرگرمیوں سے گریز کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے جو جنگلات اور اراضی میں آگ لگنے کا سبب بن سکتی ہیں۔

انڈونیشیا کا محکمہ موسمیات، موسمیاتی امور اور جیو فزکس (بی ایم کے جی) بھی آگ پر قابو پانے کی کارروائیوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔

وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت دلدلی پیٹ لینڈز اور مینگرووز کے ماحولیاتی نظام کے بہتر انتظام اور تحفظ کے لیے ایک قومی ادارہ قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مجوزہ ادارے کا مقصد ان حساس قدرتی علاقوں کے تحفظ اور انتظامی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔

آگ کی صورتحال کو قومی آفت قرار دینے سے متعلق سوال پر وزیر نے کہا کہ تاحال ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، کیونکہ حکومت کے مطابق موجودہ وسائل اور انتظامی صلاحیتیں صورتحال سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس فی الحال آگ پر قابو پانے کی ضروری صلاحیت موجود ہے۔

انڈونیشیا کی حکومت کی حکمت عملی میں فوری طور پر آگ بجھانے کی کارروائیوں کے ساتھ اہلکاروں کی مناسب تعیناتی، مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور احتیاطی اقدامات کو یکجا کیا گیا ہے، تاکہ موجودہ آگ پر قابو پانے کے علاوہ مستقبل میں ایسے واقعات کے خطرات کو بھی کم کیا جا سکے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post آذربائیجان کے سفیر عرفان داؤدوف کی صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات، اسنادِ سفارت پیش کر دیں
روس Next post روس اور آسیان کے درمیان توانائی و غذائی تحفظ اور اسٹریٹجک شراکت داری پر مذاکرات متوقع