پیوٹن

صدر پیوٹن کی یوکرین تنازع کے پائیدار حل کے لیے سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی

Read Time:3 Minute, 29 Second

ماسکو، یورپ ٹوڈے: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین تنازع کے پُرامن اور پائیدار حل کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس جنگ کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا خواہاں ہے، تاہم ماسکو اپنے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے پُرعزم ہے۔

روسی صحافی پاول زاروبن کو 22 اکتوبر 2026 کو دیے گئے انٹرویو میں صدر پیوٹن نے کہا کہ روس امریکی انتظامیہ کے نمائندے کے ساتھ بات چیت میں سہ فریقی مذاکرات کی بحالی پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔ ان کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد ایسے حتمی امن معاہدے کی تشکیل ہونا چاہیے جو روس اور یوکرین دونوں کی سلامتی کو یقینی بنائے اور تنازع کے مستقل حل کی بنیاد فراہم کرے۔

صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ روس کسی عارضی جنگ بندی کے بجائے ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جو دیرپا امن کی ضمانت دے۔ انہوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ روس اور یوکرین کی سلامتی سے متعلق مذاکرات میں یورپ کے مجموعی سلامتی کے نظام اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو بھی زیرِ غور لانا ضروری ہوگا۔

روسی صدر نے یورپی ممالک میں روس مخالف مہم اور روس کی جانب سے ممکنہ خطرے کے حوالے سے جاری بیانات پر تنقید کرتے ہوئے ان پیش رفتوں کو سیاسی تضاد سے تعبیر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی عوام روس کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے اور ماسکو بھی یورپ کے ساتھ جنگ کا خواہاں نہیں ہے، نہ ہی وہ ایسی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔

پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ روس کو میدانِ جنگ میں شکست دینا ممکن نہیں اور اسے تزویراتی شکست سے دوچار کرنے کا تصور بھی حقیقت پسندانہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس کے خلاف اس نوعیت کی پالیسی اختیار کرنے والے ممالک کو بالآخر موجودہ حقائق تسلیم کرنا ہوں گے اور یہ سمجھنا ہوگا کہ روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہیں۔

یوکرین کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے روسی صدر نے الزام عائد کیا کہ کیف کی حکومت اپنے شہریوں کو جنگ میں جھونک رہی ہے اور بیرونی ممالک سے مسلسل فوجی امداد، ہتھیاروں اور دیگر وسائل کی توقع رکھتی ہے۔ انہوں نے یوکرین میں فوج سے فرار ہونے والے اہلکاروں کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچنے اور اس سلسلے میں تین لاکھ سے زائد فوجداری مقدمات درج ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ تاہم، ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔

صدر پیوٹن نے تنازع کے پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس نے 2014 میں کیف کو یوکرین کے جنوب مشرقی علاقوں کے ساتھ مذاکرات میں معاونت کی پیشکش کی تھی، لیکن ان کے بقول اس کے بجائے شہری آبادی کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ انہوں نے منسک معاہدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ روس نے ان علاقوں کے ساتھ مفاہمت کی کوششیں جاری رکھیں جو کیف میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے مخالف تھے۔

روسی صدر نے روس اور یوکرین کے عوام کے تاریخی اور ثقافتی تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے قریب ہیں اور بات چیت کے ذریعے اختلافات کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول روس ابتدا ہی سے تنازع کے پُرامن حل کا حامی رہا ہے اور اب بھی مذاکرات کے ذریعے پیچیدہ صورتِ حال کا حل نکالنے کے لیے تیار ہے۔

یوکرین کے بعض علاقوں کی حیثیت کے حوالے سے پیوٹن نے مؤقف اختیار کیا کہ ان علاقوں کے باشندوں نے پہلے آزادی اور بعد ازاں روسی فیڈریشن میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا تھا، اس لیے انہیں یوکرین کا علاقائی نقصان قرار دینا درست نہیں۔ یہ روسی صدر کا مؤقف ہے، جبکہ یوکرین اور بیشتر بین الاقوامی برادری ان علاقوں پر روسی خودمختاری کو تسلیم نہیں کرتی۔

انٹرویو کے اختتام پر صدر پیوٹن نے کہا کہ آنے والے دنوں میں صورتِ حال کی سمت واضح ہوگی، تاہم روس اپنے اعلان کردہ اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل کے مذاکرات محض عارضی جنگ بندی تک محدود رہنے کے بجائے خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
لسبیلہ Previous post لسبیلہ: اوتھل کے قریب مسافر بس اور وین میں ہولناک تصادم، 12 افراد جاں بحق، 15 سے زائد زخمی
عاصم منیر Next post دہشت گرد جہاں کہیں بھی ہوں، انہیں بھرپور نشانہ بنایا جائے گا: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر