شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف: ملکی معیشت اور سفارتی تعلقات کے استحکام کے لیے سول و عسکری قیادت کی مشترکہ کوششیں جاری

Read Time:2 Minute, 39 Second

نیویارک، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سول و عسکری قیادت ملکی معیشت کو مستحکم بنانے اور سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کوششیں کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی قیادت کی باہمی مشاورت اور ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں برکت عطا فرما رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے مل کر کام کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور لبنان برادر ممالک ہیں اور پاکستان لبنان کی علاقائی سالمیت اور آزادی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان لبنان کے خلاف ہونے والی تمام کارروائیوں اور معصوم شہریوں کے قتل کی مسلسل مذمت کرتا ہے، کیونکہ بے گناہ افراد کا قتل کسی صورت قابل قبول نہیں۔

اس موقع پر لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے خطے کی صورتحال کو معمول پر لانے اور تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ لبنان خطے میں جاری وسیع تر تنازع سے خود کو الگ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے پاکستان کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں باب المندب کی صورتحال سے متعلق سوال پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ برادر اور دوست ممالک صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

ایرانی صدر سے اپنی ملاقات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے ایرانی صدر کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تفصیلی ملاقات کے دوران انہوں نے ایرانی صدر پر واضح کیا کہ خطے میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایران پاکستان کا برادر اور ہمسایہ ملک ہے اور پاکستان کی سول و عسکری قیادت پہلے کی طرح خطے میں امن کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ایران کے لیے مکمل طور پر قابل قبول قرار دیا اور اس پر مزید پیش رفت کے لیے آمادگی ظاہر کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی خطے میں امن کے لیے جاری کوششوں میں برکت عطا فرما رہا ہے۔

افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں آمد سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں، جن کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں، فوج اور پولیس کے افسران و اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔

انہوں نے دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا بھرپور جواب دے رہا ہے اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک خاموش نہیں بیٹھے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف نے پاک ایران دوستی اور علاقائی امن کے لیے ایرانی صدر کے عزم کو سراہا