شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کی ایف بی آر میں اصلاحات تیز کرنے کی ہدایت، ٹیکس گیپ 6 سے کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا

Read Time:2 Minute, 41 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جاری اصلاحات کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصلاحاتی اقدامات کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم ٹیکس وصولیوں میں موجود فرق کو مؤثر انداز میں کم کرنے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت میں مسلسل بہتری ضروری ہے۔

وزیراعظم نے یہ ہدایات پیر کو ایف بی آر میں جاری اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اصلاحاتی عمل کے ٹھوس نتائج یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مؤثر پیشہ ورانہ تربیت، شفافیت اور احتساب کو مرکزی اہمیت دی جائے۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں بغیر بالمشافہ رابطے کے ٹیکس وصولی کے نظام (فیس لیس ٹیکس کلیکشن میکانزم) کو تیزی سے نافذ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کے افسران قومی توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی کارکردگی بہتر بنائیں۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب اور عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ اصلاحاتی ایجنڈا وسیع تر قومی مفاد میں ہے اور اس پر عمل درآمد بلا تعطل جاری رہے گا۔ انہوں نے محکمے میں بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی اور بدعنوانی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے ملازمین کو اصلاح کا موقع دیا جانا چاہیے جو اپنے طرزِ عمل اور کارکردگی میں حقیقی بہتری دکھائیں، تاہم بدعنوانی اور ناقص کارکردگی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے ٹیکنالوجی، دفتری طریقہ کار اور انسانی وسائل کے انتظام کے شعبوں میں جاری اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

حکام نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران نافذ کی گئی اصلاحات کے نتیجے میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے تخمینہ شدہ ٹیکس گیپ 6 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے ایف بی آر کے افسران کے صوابدیدی اختیارات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر میں نئے بھرتی ہونے والے افسران کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں خصوصی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ پہلے سے خدمات انجام دینے والے افسران کے لیے بھی مسلسل تربیتی پروگرام جاری ہیں۔

حکام کے مطابق افسران کی کارکردگی کا جامع جائزہ لینے کے لیے پیر ریٹنگ سسٹم باضابطہ طور پر متعارف کرا دیا گیا ہے۔ مالیاتی جانچ پڑتال کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے میرٹ کی بنیاد پر کنٹریکٹ پر تیسرے فریق کے طور پر 957 آڈیٹرز بھرتی کیے گئے ہیں، جس سے ایف بی آر کی مجموعی آڈٹ صلاحیت چار گنا بڑھ گئی ہے۔

اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ ایف بی آر میں بڑے پیمانے پر تکنیکی و ڈیجیٹل ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل کا عمل جاری ہے، جسے معاونت فراہم کرنے کے لیے خصوصی مہارت کے حامل تکنیکی ماہرین کی ہدفی بنیادوں پر بھرتی اور کارکردگی سے منسلک مراعات کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ترکمانستان Previous post لیلیٰ علیئیوا اور اوگل جان اتابائیوا کی ملاقات، آذربائیجان اور ترکمانستان کے ثقافتی و ماحولیاتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال