
وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول پر حکومتی ریلیف صارفین تک نہ پہنچانے والے پمپس کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات پر حکومتی ریلیف صارفین تک منتقل نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے وزیرِ پیٹرولیم کو متعلقہ پمپس کے خلاف فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بعض پیٹرول پمپس کے حوالے سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ وہ عوام کو حکومتی ریلیف فراہم نہیں کر رہے۔ انہوں نے وزیرِ پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ ایسے پمپس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی اس معاملے میں غفلت کا مظاہرہ نہ کرے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بروقت فیصلوں اور متعلقہ اداروں کی کوششوں کے باعث پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ نہیں ہونے دیا گیا۔ وزیرِ پیٹرولیم اور اوگرا نے ریفائنریز سے ونڈ فال منافع عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے شیئر کرنے کی درخواست کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بلند ہو رہی ہیں اور خطے میں بے امنی کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئی ہیں۔ پاکستان خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے، جبکہ تہران میں اس حوالے سے خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی ہے۔
وزیراعظم نے مزید بتایا کہ ایل پی جی مافیا کا دور ختم ہو چکا ہے اور حکومت ایل پی جی درآمد کرکے عوام کو ریلیف فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ساڑھے سات کروڑ افراد فیول ٹوکن اسکیم سے مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ اس مقصد کے لیے اب تک 28 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے پیکیج کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت کی پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح سیکیورٹی ہے اور صوبے کی نئی حکومت کے تعاون سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔