شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کا 2005 کے زلزلہ متاثرین کو خراجِ عقیدت، آفات سے نمٹنے کی استعداد مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

Read Time:3 Minute, 24 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے آفات سے نمٹنے کی قومی استعداد کو مزید مضبوط بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ پاکستان کی تعمیر کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔

21ویں قومی یومِ استقامت کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ قوم آج بھی اس غیر معمولی زلزلے میں ضائع ہونے والی قیمتی جانوں کے غم کو یاد کرتی ہے، تاہم اس سانحے کے دوران پاکستانی عوام کی جانب سے دکھائے گئے عزم، ہمدردی اور اجتماعی جذبے کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کم سے کم حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب، زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ، جنگلات میں آگ، وبائی امراض اور سموگ جیسی بار بار آنے والی قدرتی آفات قومی عزم کا امتحان لینے کے ساتھ محدود وسائل پر بھی بھاری بوجھ ڈالتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے بار بار تجربات پاکستان کے لیے ’’استقامت کی داستان‘‘ بن چکے ہیں، کیونکہ قوم ہر چیلنج کے سامنے ثابت قدم رہی ہے اور ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے آفات سے نمٹنے اور پیشگی تیاری کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیراعظم نے مستقبل میں ممکنہ آفات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی ملکی صلاحیت بڑھانے کے لیے صوبائی حکومتوں، متعلقہ ریاستی اداروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے درمیان مزید بہتر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قدرتی آفات کے دوران پاکستانی عوام کے اجتماعی اور ہمدردانہ ردعمل کو بھی سراہتے ہوئے اسے قوم کے قابلِ فخر کردار کا اہم حصہ قرار دیا۔

انہوں نے آفات سے نمٹنے اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف اداروں، بالخصوص مسلح افواج، ریسکیو سروسز اور قومی و بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے شراکت داروں کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ذریعے ادارہ جاتی ردعمل میں جدید ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جن میں قابلِ اعتماد اور ڈیٹا پر مبنی تجزیوں کی مدد سے زیادہ مؤثر ابتدائی انتباہی نظام بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’آج استقامت محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے‘‘، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث آفات کی بڑھتی ہوئی شدت اور تعدد اس امر کی متقاضی ہے کہ موسمیاتی لچک کو قومی ترقی کی ترجیحات کا مرکزی حصہ بنایا جائے۔

وزیراعظم نے عوامی بنیادی ڈھانچے، پانی اور غذائی تحفظ، شہری منصوبہ بندی، زراعت، روزگار کے ذرائع اور ترقیاتی سرمایہ کاری سمیت تمام شعبوں میں موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ ترقیاتی منصوبہ بندی کو مرکزی دھارے میں لانے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ کمزور اور زیادہ خطرات سے دوچار علاقوں میں رہنے والی آبادیوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ حکومت کا مقصد خطرات کے آفات میں تبدیل ہونے سے قبل ان کی نشاندہی، نقصانات میں کمی، انسانی جانوں اور روزگار کا تحفظ اور بحالی و تعمیر نو کے عمل کو زیادہ تیز اور مؤثر بنانا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ابھرتے ہوئے خطرات کی پیشگی نشاندہی، بروقت فیصلوں اور ابتدائی اقدامات کو مؤثر بنانے کے لیے موسمیاتی معلومات، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، جغرافیائی معلومات اور سائنسی بنیادوں پر خطرات کے جائزوں سے بڑھتے ہوئے استفادے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے انسانی جانوں، روزگار اور اہم بنیادی ڈھانچے پر قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

قومی یومِ استقامت 2026 کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے محفوظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ ہم آہنگ پاکستان کی تعمیر کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ’’ردعمل سے پیشگی تیاری، کمزوری سے استعدادِ کار اور بحالی سے مضبوط و پائیدار ترقی‘‘ کی جانب آگے بڑھنا ہوگا۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ قومی عزم اور نیک نیتی کو کامیابی عطا فرمائے۔ انہوں نے کہا، ’’پاکستان پائندہ باد۔‘‘

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان کا وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ علاقائی انضمام اور اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور