فیول

وزیراعظم خصوصی فیول اسکیم: 22 لاکھ سے زائد افراد رجسٹرڈ، 19 لاکھ ٹوکن جاری

Read Time:5 Minute, 56 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی خصوصی فیول اسکیم کے تحت اب تک 22 لاکھ سے زائد افراد رجسٹریشن کرا چکے ہیں، جو ملک بھر سمیت آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں اسکیم کے کامیاب نفاذ کی عکاسی کرتا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ رجسٹرڈ افراد میں 92 فیصد موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ استعمال کرنے والے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہدفی فیول سبسڈی کے تحت اب تک تقریباً 19 لاکھ ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں 18 لاکھ ٹوکن موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی رکشوں کے لیے ہیں، جبکہ 800 سی سی گاڑیوں کے لیے ایک لاکھ 52 ہزار ٹوکن جاری کیے گئے ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عالمی کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان بھی اس صورتحال سے متاثر ہوا ہے۔ تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو اعتماد میں لے کر بروقت ہدایات جاری کیں تاکہ عام اور کم آمدنی والے افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک مؤثر اسکیم تیار کی جا سکے۔

وفاقی وزیر کے مطابق یہ اسکیم وزیراعظم کی منصوبہ بندی، تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت اور قریبی نگرانی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزارتِ آئی ٹی نے اسکیم کی معاونت کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کیا، جبکہ بیک اینڈ پر ایک باقاعدہ آئی ٹی نظام موجود ہے جو اہل درخواست گزاروں کے لیے ٹوکن جاری کرتا ہے۔ ان کے بقول ملک بھر میں اسکیم کا کامیاب نفاذ وزیراعظم کے عوامی فلاح کے وژن کا مظہر ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عوام اور میڈیا کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز نے بھی اسکیم میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ عوام کے مطالبے پر 2006 کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں، چنگ چی اور رکشوں کو بھی اہلیت میں شامل کیا گیا، جبکہ رجسٹریشن کے لیے ایس ایم ایس چارجز بھی ختم کر دیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے فی ٹوکن ہفتہ وار پانچ لیٹر سبسڈی والے پٹرول کی سابقہ حد میں بھی نرمی کی گئی ہے، جس کے بعد ملک بھر میں ہر اہل فرد اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے وزیراعظم کی جانب سے صوبائی حکومتوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ اداروں کا اسکیم پر عملدرآمد میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ طریقہ کار کے تحت موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ استعمال کرنے والے افراد ہفتے میں ایک مرتبہ اور ماہانہ چار مرتبہ ٹوکن حاصل کرکے ہر مرتبہ 500 روپے کا ریلیف لے سکتے ہیں۔

ان کے مطابق 800 سی سی گاڑیوں کے مالکان کو ہر 10 دن بعد 10 لیٹر پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف دیا جا رہا ہے، جس کے تحت تین ٹوکنز کے ذریعے ماہانہ 30 لیٹر پٹرول پر رعایت حاصل کی جا سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس ریلیف کے نتیجے میں عام شہری کے لیے پٹرول کی قیمتیں مؤثر طور پر جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آتی ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ رجسٹریشن کا طریقہ کار آسان اور صارف دوست ہے اور اس کی تشہیر میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر کی جا رہی ہے۔ رجسٹریشن کے لیے اسمارٹ فون ضروری نہیں، بلکہ بنیادی موبائل فون رکھنے والا شخص بھی سادہ ایس ایم ایس کوڈ کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ گاڑی کا مالک ہونا رجسٹریشن کی شرط نہیں، بلکہ درخواست گزار کو صرف گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ اور رجسٹریشن نمبر معلوم ہونا چاہیے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پریس کانفرنس سے ایک روز قبل ہی تقریباً پانچ لاکھ افراد نے رجسٹریشن کرائی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے زیرانتظام ہر پٹرول پمپ پر دستیاب ہے، جبکہ ہر فیول اسٹیشن پر بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اپنے متعلقہ علاقوں میں اسکیم پر عملدرآمد کی نگرانی کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق اوگرا کے ذریعے پٹرول پمپس کو ضروری ہدایات جاری کی جا رہی ہیں، جبکہ وزارتِ آئی ٹی میں قائم خصوصی وار روم سے معلومات کا حقیقی وقت میں تبادلہ یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اس نظام کے ذریعے روزانہ ہر پٹرول پمپ پر استعمال ہونے والے ٹوکنز کی تعداد سمیت دیگر معلومات کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وار روم 24 گھنٹے کام کر رہا ہے اور سامنے آنے والے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جا رہا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بعض حلقے اس اسکیم کو غیر معمولی طور پر وسیع منصوبہ قرار دے سکتے ہیں، تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ملک بھر میں کامیابی سے نافذ ہو رہی ہے۔ وزیراعظم تمام متعلقہ فریقین سے باقاعدگی سے پیش رفت کی رپورٹس لے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اسکیم سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اس کے بارے میں اپنی آرا اور تجاویز حکومت تک پہنچائیں۔ انہوں نے اسے مستحق شہریوں کی معاونت کے حوالے سے ایک غیر معمولی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی سطح پر بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔

بلینکٹ سبسڈی کے مطالبے سے متعلق سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ اسکیم کا مقصد مستحق افراد کو ریلیف فراہم کرنا ہے، نہ کہ بڑی گاڑیوں کے مالکان کو عمومی سبسڈی دینا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس اسکیم کی تیاری اور نفاذ ایک انتہائی مشکل اور وسیع عمل تھا۔ انہوں نے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سمیت براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشنز کا تعاون پر شکریہ ادا کیا اور اسے وزیراعظم کا ایک تاریخی اقدام قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرنے کے دوران انہوں نے انہیں مسلسل نئے اور تخلیقی اقدامات متعارف کراتے دیکھا ہے، جس کی ایک مثال ڈینگی کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے اختیار کیا جانے والا کامیاب ماڈل بھی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ احتجاج کے ذریعے عوامی زندگی میں خلل نہیں ڈالا جا سکتا، جبکہ اس امر کو یقینی بنانا حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی مسلح گروہ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حکومت اس معاملے پر واضح مؤقف رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فیول اسکیم کی رجسٹریشن کے حوالے سے آگاہی مہم مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ فریقین کے ساتھ اسی روز ہونے والے اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ دور دراز علاقوں میں بھی پٹرول پمپس پر بینرز آویزاں کیے جائیں۔ اگر کسی پٹرول پمپ پر فیول اسکیم کے تحت کوئی ٹوکن استعمال نہ ہوا تو ضروری کارروائی کی جائے گی۔

ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے وزیراعظم کے وفد کو بھی مختصر کر دیا گیا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ویتنام Previous post ویتنام کی بیٹری، جدید مواد اور گرین ٹیکنالوجی میں امریکی کمپنیوں سے تعاون بڑھانے کی خواہش
ترکمانستان Next post ترکمانستان میں اقوام متحدہ کی ٹیم نے G-PESTLE حکمت عملی آزمانے کا آغاز کر دیا