شہباز شریف

کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

Read Time:3 Minute, 50 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں میں آسانی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ریگولیٹری نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور کاروبار دوست بنانے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں۔

وزیراعظم نے یہ بات جمعہ کو ریگولیٹری اصلاحات اور کاروباری سرگرمیوں میں سہولت، سرمایہ کاری کے فروغ اور ریگولیٹری نظام کو مؤثر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے اور غیر ضروری ضوابط کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کو اصلاحات کے ذریعے جدید بنایا گیا ہے اور دیگر ریگولیٹری اداروں میں بھی اسی طرز پر اصلاحات متعارف کرائی جانی چاہئیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ ایک ریگولیٹری رجسٹری قائم کی جائے تاکہ ملک میں موجود تمام ریگولیٹری تقاضوں، قواعد و ضوابط کو ایک جامع نظام کے تحت یکجا کیا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایز آف ڈوئنگ بزنس ایکٹ کا ملک بھر میں نفاذ یقینی بنایا جائے تاکہ تمام صوبوں میں ریگولیٹری نظام میں ہم آہنگی پیدا ہو اور کاروباری افراد کو یکساں سہولیات میسر آسکیں۔

انہوں نے اصلاحات کے اثرات اور مؤثریت کا جائزہ لینے کے لیے ان کی تھرڈ پارٹی توثیق کرانے کی بھی ہدایت کی تاکہ اصلاحات کے عملی نتائج کا غیر جانب دارانہ انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کاروبار میں آسانی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو سازگار اور آسان کاروباری ماحول فراہم کیے بغیر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے تحت کی جانے والی ریگولیٹری اصلاحات کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی ہدایت کی تاکہ کاروباری برادری ان اصلاحات سے آگاہ ہو اور ان سے بھرپور استفادہ کر سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ SIFC کا ایک وفد تمام صوبوں کا دورہ کرے اور ریگولیٹری اصلاحات کے عمل کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لے، تاکہ ملک بھر میں کاروباری سہولت اور ریگولیٹری نظام میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔

انہوں نے وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت ہارون اختر خان کو ہدایت کی کہ وہ صوبوں کے دوروں کے لیے وفد کی قیادت کریں اور ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری یقینی بنائیں۔

وزیراعظم نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو کابینہ کی جانب سے منظور کردہ اصلاحات پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے SIFC اور چیف سیکریٹری پنجاب کو ’ای بز پنجاب‘ اور ’BFC اسلام آباد‘ کے انضمام کا عمل مارچ 2027 تک مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے زور دیا کہ اصلاحات کے نتیجے میں کاروباری شعبے کو عملی اور ٹھوس فوائد حاصل ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم نے SIFC کو نجی شعبے کے ساتھ فعال تعاون کرنے اور فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں کاروباری برادری کو مؤثر طور پر آگاہ کرنے اور ان کے استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو کاروبار میں آسانی کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بزنس فسیلیٹیشن سینٹر (BFC) کو پنجاب حکومت کے ای بز کی طرز پر جدید بنایا جا رہا ہے، جبکہ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر اور امپورٹ پالیسی آرڈر کو بھی آسان بنایا جا رہا ہے۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ SIFC آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں کے ساتھ ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے رابطے میں ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کابینہ کی ریگولیٹری ریفارمز کمیٹی نے سات کثیر شعبہ جاتی شعبوں میں 557 اصلاحات کی منظوری دی ہے، جن کے نتیجے میں سالانہ 460 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ بزنس فسیلیٹیشن سینٹر کے ذریعے 8,717 درخواستیں شروع کی گئیں، جن میں سے 71 فیصد مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ اسلام آباد بزنس فسیلیٹیشن سینٹر کے ذریعے 4,612 نئے کاروباروں کو سہولت فراہم کی گئی۔

SIFC ریگولیٹری اصلاحات کے ساتھ ساتھ پالیسی گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی کام کر رہا ہے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ، وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت ہارون اختر خان، وزیر خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post یورپی یونین کونسل کے وفد کا آذربائیجان کے آزاد کرائے گئے علاقوں کا دورہ