
تاجکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے قانونی و عملی اقدامات پر کانفرنس کا انعقاد
دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کی پارلیمنٹ کے ایوانِ نمائندگان میں 30 اکتوبر کو ’’جمہوریہ تاجکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کی ترقی کے لیے قانونی اور عملی بنیادوں کو مضبوط بنانا‘‘ کے موضوع پر ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔
ایوانِ نمائندگان کے مطابق کانفرنس کا اہتمام پارلیمانی کمیٹی برائے توانائی، صنعت، تعمیرات اور مواصلات کے ورک پلان کے تحت کیا گیا۔
کانفرنس کا مقصد ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے موجودہ قانونی اور ضابطہ جاتی نظام کا جائزہ لینا، اس شعبے کی معاشی اور عملی صورتحال کا تجزیہ کرنا اور گرین انرجی کے استعمال کے سائنسی و عملی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
شرکاء نے اس شعبے میں درپیش چیلنجز اور رکاوٹوں کی نشاندہی کے ساتھ قانونی ڈھانچے کو بہتر بنانے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور تاجکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے وسیع امکانات سے مؤثر استفادے کے لیے ٹھوس تجاویز مرتب کرنے پر بھی غور کیا۔
کانفرنس سے خطاب کرنے والے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع ملک کے مجموعی توانائی کے شعبے کی ترقی میں اہم مقام رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر امام علی رحمان کے اقدامات اور وژن کے تحت تاجکستان کو 2037 تک ایک سرسبز ملک میں تبدیل کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر یاد دلایا گیا کہ تاجکستان کی حکومت نے 30 ستمبر 2022 کو 2023 سے 2037 تک گرین اکانومی کی ترقی کی حکمت عملی منظور کی تھی، جس کے تحت پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ اور ماحول دوست ترقیاتی اقدامات کو وسعت دینے کے لیے طویل المدتی پالیسی فریم ورک وضع کیا گیا۔
کانفرنس کے اختتام پر تاجکستان کے گرین ڈیولپمنٹ اہداف کے حصول کے لیے ادارہ جاتی اور قانونی نظام کو مزید مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کے وسائل سے مؤثر استفادے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔