
صدر الہام علیئیف اور 18 اکتوبر: آذربائیجان کے عروج کے معمار
آذربائیجان 18 اکتوبر 1991ء کے آئینی ایکٹ کی منظوری کے 35 برس منا رہا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ ملک کی ترقی کو ایک ایسے صدر نے سنوارا ہے جو اپنی کاوشوں میں کبھی نہیں تھکے۔
قوم کا دن، اس کے قائد کو خراجِ تحسین
کچھ لوگ سالگرہوں کو برسوں سے ناپتے ہیں اور کچھ ان کامیابیوں سے جو کسی قوم نے ان برسوں میں حاصل کیں۔ 18 اکتوبر 2026ء کو جمہوریہ آذربائیجان اُس دن کی سالگرہ منا رہا ہے جب 18 اکتوبر 1991ء کو جمہوریہ آذربائیجان کی سپریم کونسل نے ریاستی آزادی سے متعلق آئینی ایکٹ منظور کیا۔ اسی ایکٹ نے آذربائیجان کو دوبارہ خودمختار اقوام کی صف میں لا کھڑا کیا۔
یہ دن سب سے پہلے آذربائیجانی عوام کا دن ہے، جو دہائیوں تک غیر ملکی تسلط کے آگے نہیں جھکے۔ تاہم آذربائیجان کی ترقی کا کوئی بھی جامع بیان اس قیادت کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا جو ملک کو دو دہائیوں سے زائد عرصے سے میسر ہے۔ یہ قیادت صدر الہام علیئیف کی ہے، جنہوں نے کبھی محنت سے گریز نہیں کیا۔ انہوں نے آزادی کے امکان کو ایک پُراعتماد، مضبوط اور مستقبل بین ریاست کی صورت میں حقیقت کا روپ دیا۔ صدر علیئیف ایک روشن خیال رہنما ہیں، اور آج کا آذربائیجان اس کا ثبوت ہے۔
ایک ورثے کے نگہبان
آذربائیجان کی ریاست 1991ء سے شروع نہیں ہوئی۔ 28 مئی 1918ء کو آذربائیجان جمہوری جمہوریہ کا اعلان ہوا، جو مسلم دنیا کی پہلی جمہوری، سیکولر اور پارلیمانی جمہوریہ تھی۔ محض 23 ماہ بعد، 1920ء میں، اسے سوویت یونین میں ضم کر لیا گیا، لیکن اس کے نظریات سات دہائیوں تک عوام کے دلوں میں زندہ رہے۔
1991ء کے آئینی ایکٹ کے مطابق جدید جمہوریہ اسی پہلی ریاست کا تسلسل تھی۔ صدر علیئیف نے اس ورثے کو تاریخ کی کوئی یادگار نہیں بلکہ ایک زندہ ذمہ داری سمجھا۔ ان کی رہنمائی میں 2021ء کے قانون کے ذریعے اس تسلسل کو قانونی وضاحت ملی۔ اس قانون نے 18 اکتوبر کو "یومِ بحالیِ آزادی” کا نام دیا، اور جس دن ملی مجلس نے یہ قانون منظور کیا، اسی دن صدر نے اس پر دستخط کر دیے۔
عزیر حاجی بیگلی اور احمد جواد کا ترانہ اور ریاستی نشان کا آٹھ کونوں والا ستارہ آذربائیجان کے آغاز کی کہانی سناتے ہیں۔ صدر علیئیف کا کام اس سوال پر مرکوز رہا ہے کہ ملک کس سمت جا رہا ہے۔
قدرتی دولت ایک نعمت ہے، لیکن اسے مستقل قومی اثاثہ بنانا ایک کٹھن کام ہے۔ صدر علیئیف کی قیادت میں، ریاست کے استحکام کے تناظر میں، آذربائیجان کے تیل اور قدرتی گیس کے وسائل کو ترقی اور جدیدیت کی طرف موڑا گیا ہے۔
ان کی حکومت نے بین الاقوامی توانائی راہداریوں اور نقل و حمل کے راستوں کو فروغ دیا ہے۔ ان کی بدولت آذربائیجان یورپی یونین اور ایشیا کے درمیان ایک اسٹریٹجک رابطہ بن سکا ہے۔ یہ نئے منصوبے آذربائیجانی توانائی کی علاقائی اور عالمی حیثیت کو بلند کرتے ہیں۔ یہ رابطے یورپی منڈیوں تک رسائی دیتے ہیں اور بحیرۂ کیسپین کے تجارتی راستوں کے ذریعے مشرق کو مغرب سے جوڑتے ہیں۔
ریاست کا اصل اور عملی کام یہی ہے۔ سڑکیں، بندرگاہیں، پائپ لائنیں اور ریلوے خود بخود تعمیر نہیں ہوتیں۔ ان میں سے ہر ایک برسوں تک اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت، منصوبہ بندی اور ثابت قدمی کا نتیجہ ہے۔
2020ء: علاقائی سالمیت کی بحالی
صدر علیئیف کی قیادت کا سب سے نمایاں سال 2020ء کا موسمِ خزاں تھا۔ 44 روزہ حب الوطنی کی جنگ کے دوران آذربائیجان کی مسلح افواج نے ملک کی علاقائی سالمیت بحال کی اور وہ زخم بھر دیا جو بیس برس سے زائد عرصے سے کھلا تھا۔
یہ کسی ایک موسم کا اتفاق نہیں تھا۔ اس کے پیچھے قومی دفاع میں مسلسل سرمایہ کاری اور فوج کی تربیت و جدید کاری کارفرما تھی۔ آذربائیجان کی خارجہ پالیسی نے بھی آذربائیجان کے مؤقف کو دنیا کے سامنے زندہ رکھا۔
اس فتح کو اندرونِ ملک قوم کے اتحاد اور عزم کے ثبوت کے طور پر منایا گیا۔ صدر علیئیف سپریم کمانڈر اِن چیف تھے اور اسی اتحاد کی رہنمائی کر رہے تھے۔ ان کا نام اب جدید آذربائیجانی ریاست کی تاریخ کے سب سے قابلِ فخر لمحات میں سے ایک سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔
فتح سے تعمیرِ نو اور امن تک
زمین کی بازیابی ایک بات ہے، اور اس کی کایا پلٹ اور ازسرِنو آبادکاری دوسری۔ 2020ء سے صدر علیئیف نے آزاد کرائے گئے تمام علاقوں میں تعمیرِ نو کا ایک پُرعزم پروگرام نافذ کیا ہے۔ جہاں کبھی تباہی تھی، وہاں نئی سرکاری عمارتیں، مکانات، بجلی کی لائنیں، ہوائی اڈے اور نئی سڑکیں تعمیر ہو رہی ہیں۔
مقصد یہ ہے کہ خاندان پورے وقار کے ساتھ ان بستیوں میں لوٹ سکیں جہاں ان کے آبا و اجداد رہتے تھے۔ شوشا، آغدام اور فضولی کے شہر اس نئی زندگی کی علامت بن چکے ہیں، اور ایک ایسی ریاست کی بھی جو اپنے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ صدر علیئیف جنوبی قفقاز کے خطے میں تعمیرِ نو، پائیدار ترقی اور امن کے داعی رہے ہیں۔ ایک ایسا رہنما جو فتح کے بعد اپنے اعزازات پر مطمئن ہو کر بیٹھ سکتا تھا، اس نے پورے خطے کے لیے ایک مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھنے کا زیادہ مشکل راستہ چنا۔
عالمی منظرنامے پر ایک مؤثر آواز
صدر علیئیف کی خارجہ پالیسی حقیقی معنوں میں آذربائیجان کی اپنی پالیسی ہے۔ یہ متوازن، عملیت پسند اور قومی مفاد پر مبنی ہے۔ اس نے ہر براعظم سے روابط قائم کیے ہیں، اور ملک کی اپنی راہ پر چلنے کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
اس کے نتائج اہم عالمی تقریبات کے میزبان کے طور پر باکو کی بڑھتی ہوئی اہمیت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان میں نومبر 2024ء میں منعقد ہونے والی اقوامِ متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس COP29 بھی شامل ہے۔ آذربائیجان کے حجم کی کسی اور قوم کو عالمی میز پر ایسا مقام حاصل نہیں۔
اس رسائی میں ثقافت بھی شامل رہی ہے۔ آج آذربائیجان کا ادب، موسیقی، فنِ تعمیر اور کثیر الثقافتی روایات کی طویل تاریخ بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔ میلے، تبادلے اور شراکتیں آذربائیجانی شناخت کو ملک کی سرحدوں سے باہر تک پہنچا رہی ہیں۔
پینتیس برس بعد: اپنے مستقبل پر مطمئن ایک قوم
آج آذربائیجان میں حب الوطنی کی تقریبات، ثقافتی پروگرام اور عوامی اجتماعات ان نسلوں کے نام ہیں جنہوں نے ملک کی آزادی کو یقینی بنایا۔ نوجوان آذربائیجانیوں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ خودمختاری ایک ورثہ بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی۔
صدر الہام علیئیف کے دورِ اقتدار نے اس خواب کو تقویت دی، اسے تحفظ فراہم کیا اور اسے ایک نیا مقام عطا کیا۔ معاشی ترقی، قومی دفاع، تعمیرِ نو اور سفارت کاری میں ان کی انتھک کوششوں نے آزادی کو محض ایک آرزو نہیں رہنے دیا بلکہ ایک پائیدار حقیقت میں بدل دیا۔
میں اس قابلِ فخر موقع پر جمہوریہ آذربائیجان کے صدر، حکومت اور برادر عوام کو دلی مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ 1918ء اور 1991ء کا جذبہ قوم کے ساتھ رہے، اور اسے کامیابی، امن اور خوشحالی کی نئی سے نئی بلندیوں تک لے جائے۔