
18 اکتوبر اور آذربائیجان — تاریخ میں پیوست خودمختاری، کامیابیوں کا تاج
ہر سال 18 اکتوبر کو آذربائیجان کے شہری اپنی قومی تاریخ کے ایک نہایت اہم واقعے، یعنی آزادی کی بحالی، کا جشن مناتے ہیں۔ 1991ء میں اسی روز، جب سوویت یونین ٹوٹنے کے قریب تھا، جمہوریہ آذربائیجان کی سپریم کونسل نے ریاستی آزادی سے متعلق آئینی ایکٹ منظور کیا، جس نے آذربائیجان کو ایک بار پھر خودمختار ملک بنا دیا۔
اس سال یہ موقع خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ اس تاریخی فیصلے کی 35ویں سالگرہ ہے۔ یہ دن خودمختاری، آزادی اور دنیا کی آزاد اقوام میں آذربائیجان کا مقام بحال کرنے کی جدوجہد کو یاد کرنے اور خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ یہ اس امر کو اجاگر کرنے کا دن بھی ہے کہ ان حقوق کی بازیابی کے بعد ملک نے کس قدر ترقی کی ہے۔
آذربائیجانی ریاست کی جڑیں اس سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔ 28 مئی 1918ء کو آذربائیجان جمہوری جمہوریہ قائم ہوئی، جو مسلم دنیا کی پہلی جمہوری، سیکولر اور پارلیمانی جمہوریہ تھی۔ یہ ریاست اپنے دور کے لحاظ سے غیر معمولی طور پر ترقی پسند تھی، اور اس کے بنیادی اصولوں نے آنے والی نسلوں تک قوم کی شناخت متعین کی۔
لیکن یہ نوزائیدہ جمہوریہ صرف 23 ماہ قائم رہ سکی، اور 1920ء میں آذربائیجان سوویت یونین کا حصہ بن گیا۔ ملک ستر برس سے زائد عرصہ سوویت یونین کا حصہ رہا۔ اس طویل دور میں بھی آزادی کا تصور کبھی ماند نہیں پڑا۔ وہ آذربائیجانیوں کے دلوں میں زندہ رہا اور اپنی واپسی کے دن کا منتظر رہا۔
18 اکتوبر 1991ء: آزادی کی بحالی
1980ء کی دہائی کے اواخر اور 1990ء کی دہائی کے اوائل میں مشرقی یورپ اور سوویت یونین میں ڈرامائی سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اسی دور میں قومی آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں، اور آذربائیجان نے بھی قومی خودمختاری کی بحالی کے لیے جدوجہد شروع کی۔
18 اکتوبر 1991ء کو سپریم کونسل نے ریاستی آزادی سے متعلق آئینی ایکٹ منظور کیا، جو ایک نئی ریاست کی قانونی بنیاد رکھنے والی اہم دستاویز تھی۔ یہ ایکٹ 28 مئی 1918ء کے اعلانِ آزادی پر مبنی تھا۔ اس کی دوسری بنیاد 30 اگست 1991ء کو سپریم کونسل کی جانب سے جاری کردہ ریاستی آزادی کی بحالی کا اعلامیہ تھا۔
اہم بات یہ ہے کہ اس ایکٹ نے جدید جمہوریہ آذربائیجان کو آذربائیجان جمہوری جمہوریہ کے تسلسل کے طور پر قائم کیا۔ یوں اس نے آذربائیجانی ریاست کے دو سنگِ میل کو یکجا کر دیا۔ یہ کوئی نیا آغاز نہیں تھا، بلکہ اس عمل کا جائز تسلسل تھا جس کی بنیاد 1918ء میں رکھی گئی تھی۔
ایک خودمختار قوم کی علامات
آزاد آذربائیجان نے اپنے ادارے قائم کرنا شروع کیے، اور ساتھ ہی نو حاصل شدہ آزادی کی علامات کو بھی تیزی سے یکجا کیا۔ قومی ترانہ مئی 1992ء میں ملی مجلس نے منظور کیا۔ اس کے بول شاعر احمد جواد نے لکھے اور موسیقی عظیم موسیقار عزیر حاجی بیگلی نے ترتیب دی۔ اسی مہینے پارلیمان نے ریاستی نشان کی منظوری دی، جس میں قومی پرچم کے پس منظر پر ایک آٹھ کونوں والا ستارہ ہے اور اس کے مرکز میں ایک شعلہ ہے۔
یہ علامات 1918ء کی جمہوریہ اور 1991ء کی آزاد ریاست کے درمیان تسلسل کی واضح ترجمان ہیں۔
2021ء میں اس تسلسل کو قانونی طور پر مزید واضح کر دیا گیا۔ 15 اکتوبر 2021ء کو ملی مجلس نے ایک نیا قانون منظور کیا، جس کی صدر نے توثیق کی۔ اس قانون کے تحت ریاستی یومِ آزادی کو "یومِ بحالیِ آزادی” کا نام دیا گیا۔ اس سے واضح ہوا کہ 1918ء میں پہلی جمہوریہ کا قیام اور 1991ء میں ریاست کی بحالی الگ الگ واقعات ہیں، تاہم تاریخی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ 18 اکتوبر اب قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، تاہم اس روز سرکاری تعطیل نہیں ہوتی۔
تین دہائیوں پر محیط شاندار تبدیلی
آزادی کے حصول کے بعد سے آذربائیجان نے نمایاں سیاسی، معاشی اور سماجی تبدیلیوں کا سفر طے کیا ہے۔ بحال شدہ خودمختاری نے ملک کو کئی شعبوں میں آگے بڑھنے کے قابل بنایا۔ وہ اپنی داخلی و خارجی پالیسیاں خود وضع کر سکا اور اپنے اداروں کو مستحکم کر سکا۔ اس نے دنیا بھر میں خارجہ شراکتیں قائم کیں اور جدیدیت کا ایک مضبوط ایجنڈا اپنایا۔
معاشی ترقی آزادی کے بعد آذربائیجان کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ تیل اور قدرتی گیس کے وافر ذخائر نے قومی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو تقویت دی ہے۔ یورپ اور ایشیا کے درمیان آذربائیجان کے اسٹریٹجک محلِ وقوع نے اسے توانائی اور نقل و حمل کا ایک اہم مرکز بنا دیا ہے۔ اس سے اس کی معیشت کو مزید فروغ ملا اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔
آزادی کی بدولت آذربائیجان اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے اور پروان چڑھانے میں بھی کامیاب رہا ہے۔ یہ ملک اپنی روایات، ادب، موسیقی اور فنِ تعمیر کے باعث عالمی سطح پر معروف ہے۔ اس کی بھرپور اور پختہ کثیر الثقافتی اقدار بھی اس کی پہچان ہیں۔ ان اقدار کو ثقافتی تبادلوں، میلوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکتوں کے ذریعے فروغ دیا جاتا ہے۔ اس شناخت کا جشن آج بھی یومِ بحالیِ آزادی کی روح ہے۔
صدر الہام علیئیف کی قیادت میں قوت اور وژن
صدر الہام علیئیف نے عالمی منظرنامے پر آذربائیجان کے ایک فعال اور طاقتور ملک کے تشخص کو مزید مستحکم کیا ہے۔ ریاست کی ترقی میں ان کی انتھک کوششوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی توجہ معاشی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور قومی دفاع پر رہی ہے۔ انہوں نے خارجہ تعلقات میں ایک آزادانہ پالیسی بھی اپنائی ہے۔
2020ء کی 44 روزہ حب الوطنی کی جنگ آذربائیجان کی جدید تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھی، جس میں ملک کی مسلح افواج نے اپنے علاقے واپس حاصل کیے۔ اس فتح کو صدر علیئیف کی قیادت میں قوم کے اتحاد، طاقت اور عزم کا ثبوت سمجھا گیا۔
تب سے آذربائیجان نے آزاد کرائے گئے علاقوں میں تعمیرِ نو اور ترقی میں تیز رفتار پیش رفت کی ہے۔ وہ علاقائی تعاون، پائیدار ترقی اور امن کا علمبردار رہے گا۔ ان کامیابیوں نے قومی فخر کو تقویت دی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک خودمختار، مستحکم اور روشن مستقبل کے حامل ملک کے طور پر آذربائیجان کے تشخص کو مضبوط کیا ہے۔
تاریخ کا احترام، مستقبل کے لیے تحریک
آذربائیجان بھر میں 18 اکتوبر حب الوطنی پر مبنی تقریبات، تعلیمی پروگراموں، ثقافتی سرگرمیوں اور عوامی اجتماعات کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ سرکاری حکام، کمیونٹی رہنما، اہلِ علم اور شہری اس موقع پر جمع ہوتے ہیں۔ وہ ان گزشتہ نسلوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے ملک کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ یہ دن ان لوگوں کے نام ہے جنہوں نے آزادی کی بنیاد رکھی۔ یہ نوجوان آذربائیجانیوں کو خودمختاری، اتحاد اور ترقی کے اصولوں پر کاربند رہنے کی تحریک بھی دیتا ہے۔
آزادی کی بحالی آذربائیجان کی جدید تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ ایک ایسی قوم کی علامت ہے جس نے دہائیوں کی ہنگامہ خیزی کے دوران اپنی شناخت برقرار رکھی۔ وہ ایک ایسی خودمختار قوم بن کر ابھری جو ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے لیے پرعزم ہے۔
اپنی بحال شدہ آزادی کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر آذربائیجان نہ صرف ماضی کی کامیابیوں کو یاد کر رہا ہے بلکہ مستقبل کی جانب بھی دیکھ رہا ہے۔ وہ جذبہ جس کا اعلان پہلی بار 1918ء میں ہوا اور جو 1991ء میں بحال ہوا، آج بھی عوام کو ایک نئی راہ پر گامزن کیے ہوئے ہے۔ یہ جذبہ یاد دلاتا ہے کہ آزادی اور خودمختاری وہ انمول خزانے ہیں جن کی ہر قوم کو قدر کرنی چاہیے۔
اس پُرمسرت اور پُرشکوہ دن کے موقع پر ہم جمہوریہ آذربائیجان کی حکومت اور برادر عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہم ان کے لیے امن، خوشحالی اور آنے والے برسوں میں کامیابی کی دعا کرتے ہیں۔