
وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت—پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شفاف طریقے سے تیز کیا جائے، جہازوں کی تعداد بڑھانے کی واضح حکمتِ عملی تیار کرنے کا حکم
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کے روز متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) کی نجکاری کے تمام مراحل کو شفافیت کے ساتھ تیزی سے مکمل کیا جائے اور قومی ایئرلائن کے بیڑے میں قابلِ پرواز طیاروں کی تعداد بڑھانے کے لیے ایک جامع اور عملی حکمت عملی مرتب کی جائے، تاکہ تمام پروازوں کی بروقت روانگی یقینی بنائی جاسکے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس میں پی آئی اے سے متعلق اہم امور کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ قومی ایئرلائن کی عملی اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
نجکاری کے موجودہ عمل پر بریفنگ—چار فریق پری کوالیفائی
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق جاری عمل اور بزنس پلان پر پیش رفت ہو رہی ہے۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ نجکاری کے لیے چار فریق پہلے ہی پری کوالیفائی کر چکے ہیں اور جلد ہی بولی کا باضابطہ عمل شروع ہو جائے گا۔
حکام نے مزید آگاہ کیا کہ حکومت پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم اس بات کی سخت شرائط رکھی گئی ہیں کہ نجکاری کے بعد بھی ایئرلائن کا نام اور برانڈنگ تبدیل نہیں کی جائے گی۔
پی آئی اے کے بیڑے میں طیاروں کی تعداد 2029 تک 38 کرنے کا منصوبہ
اجلاس کو بتایا گیا کہ بزنس پلان کے تحت پی آئی اے کے موجودہ قابلِ پرواز طیاروں کی تعداد 18 سے بڑھا کر 2029 تک 38 کر دی جائے گی۔
اس وقت پی آئی اے 30 سے زائد شہروں کو خدمات فراہم کر رہی ہے، جبکہ منصوبے کے مطابق 2029 تک اس کا نیٹ ورک 40 سے زیادہ مقامات تک وسعت دے دیا جائے گا۔
وفاقی وزراء اور سینئر حکام کی شرکت
اجلاس میں وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
اجلاس مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوا، جس میں قومی ایئرلائن کی بہتری اور نجکاری کے شفاف عمل کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔