پاکستان

معرکۂ حق پاکستان کے عزم، اتحاد اور خودمختاری کی علامت ہے: اسحاق ڈار

Read Time:3 Minute, 30 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ آپریشن “بنیان المرصوص” ایک منظم، پُرعزم اور متوازن ردعمل تھا، جس کے ذریعے پاکستان نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ وہ امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی عزت، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں نائب وزیراعظم نے معرکۂ حق کو قومی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن باب قرار دیتے ہوئے افواجِ پاکستان، وطن کے بہادر بیٹوں اور بیٹیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک تاریخ نہیں بلکہ جرات، اتحاد اور غیر متزلزل عزم کی داستان ہے، جہاں ہر سپاہی ثابت قدم رہا اور ہر شہری اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ افواجِ پاکستان کے ان بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے نظم و ضبط اور عزم کے ساتھ وطن کا دفاع کیا، جبکہ پاکستانی قوم کے اتحاد نے ملک کی سب سے بڑی طاقت کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب پوری قوم ایک ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کی بنیادیں متزلزل نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ دشمن کی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں تحمل، بصیرت اور اصولی موقف کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کا ردعمل جذبات کے بجائے اصولوں کی بنیاد پر ذمہ دارانہ، متوازن اور انتہائی درست تھا۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ آپریشن “بنیان المرصوص” صرف عسکری کامیابی نہیں تھا بلکہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے حقِ دفاع کو استعمال کرتے ہوئے اُس وقت کے جنرل، موجودہ فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کی قیادت میں جارح ملک کی صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور فیصلہ کن، متناسب اور مؤثر جواب دیا۔

انہوں نے پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کی قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جن میں متعدد بھارتی جنگی طیاروں کو مار گرانا اور اہم عسکری اہداف کو ناکارہ بنانا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقائق مکمل طور پر دستاویزی شکل میں موجود ہیں اور ان پر کوئی اختلاف نہیں۔ اسی طرح ایڈمرل نوید اشرف کی سربراہی میں پاک بحریہ ہر قسم کی بحری جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہی۔

اسحاق ڈار نے معرکۂ حق کے دوران وزارتِ خارجہ کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس نازک مرحلے پر دفتر خارجہ نے عالمی اور دوطرفہ سطح پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں اجاگر کیا، جس سے عالمی برادری کو پاکستان کے قانونی، ذمہ دارانہ اور تحمل پر مبنی ردعمل کو سمجھنے میں مدد ملی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کے واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک بنیادی تنازعات، بالخصوص مسئلہ جموں و کشمیر، کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا جاتا۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے پُرعزم ہے اور مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی احترام کی بنیاد پر تنازعات کے حل پر یقین رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وطنِ عزیز کے خلاف کسی بھی خطرے کا مقابلہ قومی اتحاد، غیر متزلزل عزم اور ہر ممکن قوت کے ساتھ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کی سالگرہ صرف ماضی کو یاد کرنے کا نام نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کا عہد بھی ہے، جہاں پاکستان دفاع کے ساتھ ساتھ معیشت، تعلیم اور سماجی شعبوں میں بھی مضبوط ہو، نوجوان اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں اور قوم عالمی برادری میں باوقار مقام حاصل کرے۔

اسحاق ڈار نے اپنے پیغام کے اختتام پر قوم سے اتحاد، انتشار کے خاتمے اور ایک پُرامن و خوشحال پاکستان کے لیے مسلسل جدوجہد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ معرکۂ حق کی روح صرف تاریخ ہی نہیں بلکہ قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ پاکستان زندہ باد۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
صدر مملکت Previous post صدر مملکت کا علما سے اتحاد، اعتدال اور اسلام کے حقیقی پیغام کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے پر زور
بلتستان Next post گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز، وزیراعظم شہباز شریف نے سولر پراجیکٹس اور دانش اسکولوں کا افتتاح کر دیا