انڈونیشیا

انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان سیاحت میں تعاون کے معاہدے پر اتفاق

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ نے پائیدار ترقی کو فروغ دینے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سیاحت کے شعبے میں سات اسٹریٹجک (حکمتِ عملی پر مبنی) شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ انڈونیشیا کی وزیرِ سیاحت ویدیانتی پوتری وردھانا نے جمعرات کے روز یہ بات کہی۔

جکارتہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات دونوں حکومتوں کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور دوطرفہ سیاحتی تعاون کو آگے بڑھانے کی مشترکہ خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔

وزیرِ سیاحت کے مطابق یہ شراکت داری برابری، باہمی فائدے اور ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام کے اصولوں پر مبنی ہے، جس کا مقصد پائیدار سیاحتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

دونوں ممالک نے تعاون کے لیے سات اہم شعبوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں پائیدار سیاحت، انسانی وسائل کی ترقی، مارکیٹنگ اور تشہیر، سیاحتی سرمایہ کاری، سلامتی اور خدمات کے معیارات، تحقیق و ترقی، اور سیاحت کے شعبے سے متعلق دیگر مشترکہ اقدامات شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوبی افریقہ میں سیاحت کے شعبے میں نمایاں امکانات موجود ہیں۔ ادارۂ شماریات انڈونیشیا (بی پی ایس) کے مطابق، سن 2025 کے دوران 36 ہزار 548 جنوبی افریقی سیاحوں نے انڈونیشیا کا دورہ کیا۔

وزیرِ سیاحت نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی تعاون مزید مضبوط ہوگا اور ایک زیادہ پائیدار، جامع اور مستحکم سیاحتی مستقبل کی راہ ہموار ہوگی۔

جنوبی افریقہ کی وزیرِ سیاحت پیٹریشیا ڈی لیل نے انڈونیشیا کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا، بالخصوص دونوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانے کے حوالے سے۔ انہوں نے انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان براہِ راست پروازوں میں اضافے کی امید ظاہر کی اور بتایا کہ گزشتہ برس تقریباً تین ہزار انڈونیشی شہریوں نے جنوبی افریقہ کا دورہ کیا۔

انہوں نے کہا،
“اس تعاون کے تحت ہمارا مقصد انڈونیشیا سے اپنے ملک کے لیے پروازوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے، جہاں سیاحوں کا پُرتپاک استقبال کیا جائے گا۔”

تقریب کے دوران دونوں وزرائے سیاحت نے سیاحتی شراکت داری کو باضابطہ شکل دینے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس سے قبل بند کمرے میں ہونے والے دوطرفہ مذاکرات میں دونوں ممالک کے وفود نے مفاہمتی یادداشت کی پیش رفت، متوقع ٹائم لائنز اور سیاحتی آمد و رفت میں اضافے کے لیے تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا، جن میں ویزا سہولیات، فضائی رابطہ کاری اور مشترکہ تشہیری اقدامات شامل تھے۔

Previous post جنہاں گھر دانے
بسنت Next post بسنت فیسٹیول شروع، لاہور کی فضا میں بوکاٹا کی گونج